30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَاؕ-فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَۙ - قَالَ لَا تَخَفْٙ- نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۲۵) قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ٘-اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ(۲۶)(1)
اتارے۔تو ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حضرت موسیٰ کے پاس شرم سے چلتی ہوئی آئی (اور) کہا: میرے والد آپ کو بلارہے ہیں تاکہ آپ کو اس کا م کی مزدوری دیں جوآپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔ تو جب موسیٰ اس (والد) کے پاس آئے اور اسے (اپنے) واقعات سنائے تواس نے کہا: ڈرو نہیں ، آپ ظالموں سے نجات پاچکے ہو۔ان میں سے ایک نے کہا: اے میرے باپ!ان کو ملازم رکھ لو بیشک آپ کا بہتر نوکر وہ ہوگا جو طاقتور اور امانتدار ہو۔
ان آیات میں حضرت شعیب علیہ السلام کی دو شہزادیوں کا تذکرہ ہے جو یقینا آپ علیہ السلام پر ایمان رکھنے والی تھیں اور یوں صحابیت کا مرتبہ بھی رکھتی تھیں۔ان کا یہاں مذکور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے بارے میں یہ خبر ملی کہ وہ آپ علیہ السلام کو جان سے مارنا چاہتا ہے تو آپ علیہ السلام نے فورا مصر چھوڑ دیا اور ہجرت کرکے مدین آگئے ۔ جب شہر میں پہنچے تو شہر کے کنارے پر موجود ایک کنوئیں پر تشریف لائے جس سے وہاں کے لوگ پانی لیتے اور اپنے جانوروں کو سیراب کرتے تھے ۔وہاں آپ علیہ السلام نے لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور ان لوگوں سے علیحدہ دوسری طرف دو عورتیں کھڑی ہیں جو اپنے جانوروں کواس انتظار میں روک رہی ہیں کہ لوگ پانی پلا کرفارغ ہو جائیں اور کنواں خالی ہو کیونکہ کنوئیں کو مضبوط اور طاقتور لوگوں نے گھیر رکھا تھا اوران کے ہجوم میں عورتوں سے ممکن نہ تھا کہ وہ اپنے جانوروں کو پانی پلا سکیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: تم دونوں اپنے جانوروں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں ؟ انہوں نے کہا: جب تک سب چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلاکر واپس نہیں لے جاتے تب تک ہم پانی نہیں پلاتیں کیونکہ نہ ہم مردوں کے مجمع میں جا سکتی ہیں نہ پانی کھینچ سکتی ہیں اورجب یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر واپس ہو جاتے ہیں تو حوض میں جو پانی بچ جاتا ہے وہ ہم اپنے جانوروں کو پلا لیتی ہیں اور ہمارے باپ بہت ضعیف ہیں ،وہ خود یہ کام نہیں کر سکتے اس لئے جانوروں کو پانی پلانے کی ضرورت ہمیں پیش آئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی باتیں سنیں تو آپ کو رحم آیا اور وہیں دوسرا کنواں جو اس کے قریب تھا اور ایک بہت بھاری پتھر اس پر رکھاہوا تھا جسے بہت سے آدمی مل کر ہٹا سکتے تھے، آپ نے تنہا اسے ہٹا
[1] … پ20، القصص:23-26
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع