30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عظیم ثواب سے باخبر ہوں اور صبر کرکے اجر وثواب پائیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ پررحمتِ الٰہی:
بیماری کے زمانہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ ایک بار کہیں کام سے گئیں تو دیر سے خدمت میں حاضر ہوئیں،چونکہ تکلیف و کمزوری کی وجہ سے بہت سے امور خود نہ کرپاتے تھے اور زوجہ ہی معاون تھیں تو زوجہ کی عدم ِ موجودگی میں غالبا سخت آزمائش کا معاملہ آیاجس سے بے قرار ہوکر آپ علیہ السلام نے قسم کھائی کہ میں تندرست ہو کر تمہیں سو کوڑے ماروں گا۔جب حضرت ایوب علیہ السلام صحت یاب ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ علیہ السلام انہیں جھاڑو مار دیں اور اپنی قسم نہ توڑیں،چنانچہ حضرت ایوب علیہ السلام نے سو تیلیوں والا ایک جھاڑو لے کر اپنی زوجہ کو ایک ہی بار ماردیا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ- (1)
ترجمہ : اور (فرمایا) اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے قسم کھانے کا ایک سبب اوپر بیان ہوا اور دوسرا سبب بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی ہیں کہ آزمائش وابتلاء کے دور میں آپ کی پاکیزہ بیوی جن کا نام رحمہ بنت افرائیم، یا میشا بنت یوسف بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہمُ السّلام تھا، وہ آپ کےلئے محنت ومزدوری کرکے خوراک مہیا فرماتی تھیں، ایک دن انہوں نے حضرت ایوب علیہ السلام کی خدمت میں زیادہ کھانا پیش کیا تو حضرت ایوب علیہ السلام کو گمان ہوا کہ شاید وہ کسی کا مال خیانت کے ذریعہ حاصل کرلائی ہیں، اس پر آپ کو غصہ آیا تو آپ نے قسم کھائی کہ اس کو ایک سو چھڑی ماروں گا۔آگے کی تفصیل وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ پر رحمت اورتخفیف کا سبب:
مفسرین نے حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ پر اس رحمت اورتخفیف کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ بیماری کے زمانہ میں انہوں نے اپنے شوہر کی بہت اچھی طرح خدمت کی اور آپ کے شوہر آپ سے راضی ہوئے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آسانی فرمائی۔
[1] …پ23، ص:44
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع