30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیا کرتے تھے ۔میرے پاس بھی ایک بیٹی تھی، جب وہ کچھ بڑی ہوئی اور میں اسے بلاتا تو وہ میرے بلانے پر بہت خوش ہو جاتی تھی ۔ ایک دن میں نے اسے بلایا تو وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی آئی ، میں چلتا رہا یہاں تک کہ اپنے گھر سے دور ایک کنویں کے پاس پہنچ گیا،یہاں میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور تھوڑی دیر بعد اسے کنویں میں پھینک دیا،گرتے وقت اس کے آخری الفاظ یہ تھے جو اس نے کہے:ابو جان، ابو جان۔یہ سن کرحضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک آنکھو ں سے آنسو رواں ہو گئے ، جب یہ رکے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اصحاب میں سے ایک نے اس شخص سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو غمزدہ کر دیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: رک جاؤ کیونکہ یہ اپنے عمل کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہ رہا ہے ۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس شخص سے فرمایا:اپنا واقعہ دوبارہ سناؤ۔ اس نے دوبارہ سنایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس آنکھیں پھر نم ہو گئیں یہاں تک کہ آنسوؤں سے داڑھی مبارک تر ہو گئی ، پھر ارشاد فرمایا: (اسلام قبول کرنے کی برکت سے ) ۔(1)
(4)آغوشِ اسلام میں عورت کی عزت و قدر:
دین ِاسلام کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے بیٹیوں کو اپنے لئے بدنامی کا باعث سمجھ کرزمین میں زندہ دفن کر دینے والوں کو اس انسانیّت کُش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کیا۔ ماں کی عزت و قدر ان کے دلوں میں ڈالی ، بیویوں سے حسن سلوک کرنے والا بنایا اور عورت کے ساتھ کی جانے والی حق تلفی اور نا انصافی کاہر دروازہ بند کر دیا۔یہاں عورتوں سے متعلق اسلامی تعلیمات کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو، چنانچہ قرآن کریم میں تنگدستی کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کر دینے والوں سے فرمایا گیا:
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ-اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا(۳۱)(2) ترجمہ : اور غربت کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک انہیں قتل کرناکبیرہ گناہ ہے۔
[1] … سنن دارمی،باب ما کان علیہ الناس…الخ، 1/14، حدیث:02
[2] … پ15،بنی اسرائیل:31
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع