30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھانے اور میوے اس پرچنے گئے۔ پھر زلیخا نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دیدی تاکہ وہ اس سے کھانے کے لئے گوشت کاٹیں اور میوے تراش لیں ، اس کے بعد زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو عمدہ لباس پہننے کیلئے دیا اور کہا ’’ان عورتوں کے سامنے نکل آئیے۔ پہلے تو آپ نے اس سے انکار کیا لیکن جب اِصرار و تاکید زیادہ ہوئی توزلیخا کی مخالفت کے اندیشے سے آپ کو آنا ہی پڑا۔ جب عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا توان کی بڑائی پکار اُٹھیں کیونکہ انہوں نے اس عالَم افروز جمال کے ساتھ نبوت و رسالت کے اَنوار ،عاجزی و اِنکساری کے آثار ،شاہانہ ہَیبت واِقتدار اور کھانے پینے کی لذیذ چیزوں اور حسین و جمیل صورتوں کی طرف سے بے نیازی کی شان دیکھی تو تعجب میں آگئیں اور آپ کی عظمت وہیبت دلوں میں بھر گئی اور حسن و جمال نے ایسا وارفتہ کیا کہ ان عورتوں کو خود فراموشی ہو گئی اور ان کے حسن و جمال میں گم ہوکر پھل کاٹتے ہوئے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور ہاتھ کٹنے کی تکلیف کا اصلاً احساس نہ ہوا۔ وہ پکار اٹھیں کہ سُبْحَانَ اللہ ، یہ کوئی انسان نہیں ہے کہ ایسا حسن و جمال انسانوں میں دیکھا ہی نہیں گیا اور اس کے ساتھ نفس کی یہ طہارت کہ مصر کے اعلیٰ خاندانوں کی حسین و جمیل عورتیں ، طرح طرح کے نفیس لباسوں اور زیوروں سے آراستہ وپیراستہ سامنے موجود ہیں اور آپ کی شانِ بے نیازی ایسی کہ کسی کی طرف نظر نہیں فرماتے اور قطعاً اِلتفات نہیں کرتے۔ (1)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کی طرف اشارہ کر کے بڑے حسین انداز میں شانِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زَناں سر کٹاتے ہیں ترے نام پر مردانِ عرب
قرآن مجید میں اس کے متعلق بیان فرمایا:
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُ جْ عَلَیْهِنَّۚ-فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ-اِنْ هٰذَاۤ
ترجمہ :تو جب اس عورت نے ان کی بات سنی تو ان عورتوں کی طرف پیغام بھیجااور ان کے لیے تکیہ لگا کر بیٹھنے کی نشستیں تیار کردیں اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دیدی اور یوسف سے کہا: ان کے سامنے نکل آئیے توجب عورتوں نے یوسف کو دیکھا تواس کی بڑائی پکار اُٹھیں اور اپنے ہاتھ کاٹ
[1] … خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۱۷-۱۸، تفسیر کبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۱، ۶ / ۴۴۸، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع