30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۷) فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّؕ-اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ(۲۸) یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاٚ-وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۚۖ-اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـٕیْنَ۠(۲۹)(1)
عورت سچی ہے اور یہ سچے نہیں ۔ اور اگر ان کا کر تا پیچھے سے چاک ہوا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے ہیں ۔ پھر جب عزیز نے اس کا کر تاپیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا مکر ہے۔ بیشک تمہارا مکر بہت بڑا ہے۔ اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔
مصر کی اشرافیہ خاندان کی عورتوں کا تذکرہ:
عزیز ِمصر نے اگرچہ اس قصہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا۔ شہر میں شُرفاء ِمصر کی عورتیں زلیخا اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں باتیں کرنے لگیں ۔(2)
قرآن مجید میں فرمایا گیا:
وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ-قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاؕ-اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۳۰)(3)
ترجمہ : اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے، بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے، ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں ۔
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زَناں:
جب زلیخانے سنا کہ اَشرافِ مصر کی عورتیں اسے حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت پر ملامت کرتی ہیں تو اس نے چاہا کہ وہ اپنا عذر ان کے سامنے ظاہر کردے،چنانچہ اس کے لئے اس نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس دعوت میں اشراف ِمصر کی چالیس عورتوں کو مدعو کرلیا، ان میں وہ سب عورتیں بھی تھیں جنہوں نے اس پر ملامت کی تھی، زلیخا نے ان عورتوں کو بہت عزت و احترام کے ساتھ مہمان بنایا اور ان کیلئے نہایت پرتکلف نشستیں تیار کردیں جن پر وہ بہت عزت و آرام سے تکیے لگا کر بیٹھیں ، دستر خوان بچھائے گئے اور طرح طرح کے
[1] … پ12،یوسف:25-29
[2] … خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۳۰ ، ۳ / ۱۶-۱۷ ، ملخصاً
[3] … پ12،یوسف:30
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع