30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر ہم انہیں بیٹا بنالیں۔ یہ قطفیر نے اس لئے کہا کہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی۔(1)
چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا:
وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ-وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ٘-(2)
ترجمہ : اور مصر کے جس شخص نے انہیں خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: انہیں عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ہم انہیں بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں ٹھکانا دیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام عزیر مصر کے گھر میں رہنا شروع ہوگئے، آپ علیہ السلام انتہائی حسین و جمیل تھے، جب زلیخا نے آپ علیہ السلام کے حسن و جمال کو دیکھا تو اس نے آپ علیہ السلام کے بارے میں لالچ کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام چونکہ اسی گھر میں رہائش پذیر تھے جہاں زلیخا رہتی تھی، اس لئے زلیخا نے موقع پاکر حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے مُقَدّس نفس کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی تا کہ وہ اس کی ناجائز خواہش کو پورا کریں۔زلیخا کے مکان میں یکے بعد دیگرے سات دروازے تھے، زلیخا نے ساتوں دروازے بند کر کے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا:میری طرف آؤ ،یہ میں تم ہی سے کہہ رہی ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ا س کی بات سن کر فرمایا:میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور اسی سے اپنی حفاظت کا طلبگار ہوں کہ وہ مجھے اس قباحت سے بچائے جس کی تو طلب گار ہے۔ بے شک عزیز مصر قطفیر میری پرورش کرنے والا ہے اور اس نے مجھے رہنے کے لئے اچھی جگہ دی ہے اس کا بدلہ یہ نہیں کہ میں اس کے اہلِ خانہ میں خیانت کروں ، جو ایسا کرے وہ ظالم ہے۔(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہونا چاہیے اور اپنے مربی کا احسان ماننا انبیاءِ کرام علیہمُ السّلام کا طریقہ ہے۔ قرآن مجید میں واقعے کایہ حصہ یوں بیان فرمایا:
وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ-اِنَّهٗ
ترجمہ : اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اُس نے اُنہیں اُن کے نفس کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی اور سب دروازے بند کردئیے اور کہنے لگی: آؤ ، (یہ) تم ہی سے کہہ رہی ہوں ۔ یوسف نے
[1] … ابوسعود، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳/۹۰ ، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۱ ، ۳ / ۱۱ ، ملتقطاً
[2] … پ12،یوسف:21
[3] … تفسیرکبیر، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۳ ، ۶ / ۴۳۸ ، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۲۳ ، ۳ / ۱۲ ، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع