30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت فرمائی اور مہمانوں کے سامنے رسوا کرنے سے روکا تو آپ علیہ السلام کی قوم نے اس نصیحت سے اعراض کرتے ہوئے کہا:آپ جانتے ہیں کہ آپ کی قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرنے کی ہمیں کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی ہمیں ان کی طرف کوئی رغبت ہے اور جو ہماری خواہش ہے وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔(1)
ایک دوسری آیت میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیوں کا ذکر ہے چنانچہ سورۂ اعراف میں عذاب سے نجات پانے والوں میں اہلِ لوط کا بیان ہے اورمفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیاں ہیں کیونکہ بیوی تو عذاب کا شکار ہوگئی تھی۔ چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا:
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﳲ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۸۳) (2)
ترجمہ : تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے ، وہ باقی رہنے والوں میں سے تھی۔
یعنی جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام آپ کے گھر والوں میں سے آپ کی دو بیٹیوں اور سارے مسلمانوں کو عذاب سے بچا لیا، البتہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جس کا نام واہلہ تھا وہ آپ پر ایمان نہ لائی بلکہ کافرہ ہی رہی ،اپنی قوم سے محبت رکھتی اور ان کے لئے جاسوسی کرتی تھی،یہ عذاب میں مبتلا ہوئی۔
حضرت زلیخا رضی اللہ عنہا
زلیخا عزیزِ مصر کی زوجہ کا نام ہے جو مصر میں رہتی تھیں۔ عزیز مصر کا نام قطفیر تھا اور بعض نے فوطیفار یا نام لکھا ہے، اسے شاہی دربار میں رسائی اور عہدہ حاصل تھا۔ روایات کے مطابق زلیخا کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی ۔ عزیزِ مصر نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدا تواپنی بیوی سے فرمایاکہ یوسف ( علیہ السلام ) کو عزت سے رکھو ، ان کی قیام گاہ نفیس ہو، لباس اور خوراک اعلیٰ قسم کی ہو، شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے اور ہمارے کاموں میں اپنے تدبر و دانائی سے ہمارے لئے نفع مند اور بہتر مددگار ثابت ہو؛ نیز ہوسکتا ہے کہ سلطنت اور حکومت کے کاموں کو سر انجام دینے میں ہمارے کام آئے کیونکہ رُشد کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر ہیں یا
[1] … ابوسعود، ہود، تحت الآیۃ:۷۹،۳/ ۵۴
[2] … پ8،الاعراف:83
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع