30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اطمینان و سکون کا ذریعہ ہوں گے تو ان سے بننے والا خاندان بھی خوشیوں بھرا ہو گا اور جب ہر خاندان اس دولت سے مالا مال ہو گا تو معاشرہ خود ہی امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا ۔ یہاں ہرصاحبِ عقل آدمی ا س بات کا مشاہدہ کر سکتا ہے کہ معاشرے میں جہاں اسلامی تعلیمات پر عمل ہوتا ہے وہاں سکون اور چین نظر آتا ہے اور جہاں عمل نہیں ہوتا وہاں بے چینی اور بے اطمینانی پیداہوجاتی ہے چنانچہ اسلامی معاشرے کے مقابلے میں جب مغربی معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو اس میں بسنے والے ذہنی سکون کی دولت سے محروم نظر آتے ہیں ،اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے دُنْیَوی علوم و فنون اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں کوئی کمی باقی ہے جس کی بنا پر وہ بے سکون ہیں یا ان کے پاس مال و دولت کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشی پریشانیوں کا شکار ہو کر ذہنی سکون سے محروم ہیں بلکہ تمام تر ترقی ، دولت،آسائشوں اور سہولتوں کی بَہُتات ہونے کے باوجود مغربی معاشرے میں بسنے والوں کے ذہنی سکون سے محروم ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف جنسی تسکین اورنفس کی آسودگی کو بنیاد بنایا،جس کے لئے انہوں نے عورت کو بے راہ رَوی کی آزادی دیدی اور مرد کو یہ اختیار دیا کہ وہ کسی بھی عورت کے ساتھ اس کی رضا مندی سے جنسی تعلقات قائم کر لے ، جب مغربی معاشرے میں ذہنی سکون کی بجائے جنسی تسکین کو بنیاد بنایا گیا اور عورت کی حیثیت محض جنسی تسکین کا آلہ ہونے کی رکھی گئی تو ا س کا نتیجہ یہ ہوا کہ ا س معاشرے میں ناجائز بچوں کی پیدائش اور انہیں قتل کر دئیے جانے کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا،طلاقوں کی شرح بہت بڑھ گئی ،خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا،نفسیاتی اور ذہنی اَمراض میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور آج یہ حال ہے کہ ذہنی اور نفسیاتی امراض کے ہسپتال سب سے زیادہ وہاں ہیں ، ذہنی مریضوں اور دماغی سکون کی دوائیں کھانے والو ں کی تعداد بھی وہیں سب سے زیادہ ہے اور پاگل خانوں کی زیادہ تعداد بھی وہیں پرہے۔ لہٰذامسلمانوں کو چاہئے کہ مغربی معاشرے کی اندھی پیروی کرکے اپنا ذہنی سکون اور خاندانی نظام تباہی کے دہانے پر لانے کی بجائے ان کے حالات سے عبرت حاصل کریں اور اسلامی معاشرے کے اصول و قوانین پر عمل پیرا ہو کر ذہنی سکون حاصل کرنے اور خاندانی نظام کو تباہ ہونے سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔ الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع