30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث ہے،نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ کو پیدا کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا: جنت اوراس کی اُن نعمتوں کودیکھو جومیں نے اہل جنت کے لئے تیارکی ہیں۔ جبریل علیہ السلام جنت میں آئے، جنت اوراہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ کربارگاہِ الٰہی میں حاضرہوئے اور عرض کی: تیری عزت وجلال کی قسم!جو بھی اس جنت کے بارے میں سنے گا وہ ضروراس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا ۔اس کے بعد حکم الٰہی سےجنت کو مشقتوں اورتکالیف سے ڈھانپ دیاگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام سے فرمایا: دوبارہ جاؤ، جنت اوراس کی نعمتیں دیکھوجومیں نے جنتیوں کے لئے تیارکی ہیں۔جبریل علیہ السلام دوبارہ جنت میں گئے تو دیکھا کہ اسےمشقتوں اور تکالیف سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ حضرت جبریل السّلام نے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوکر عرض کی: اے اللہ !تیری عزت وجلال کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اب اس میں کوئی بھی داخل نہ ہوسکے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: اب جہنم کی طرف جاؤاوراس کے عذابات دیکھوجومیں نے اہل جہنم کے لئے تیارکئے ہیں۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے جاکر دیکھا کہ جہنم (کی آگ)کا ایک حصہ دوسرے پرچڑھ رہاہے۔ بارگاہِ الٰہی میں حاضرہو کر عرض کی: اے اللہ ! تیری عزت وجلال کی قسم ! کوئی بھی ایسانہیں جو جہنم (کی سختی ) کے بارے میں سنے اوراس میں داخل ہو(یعنی ہر کوئی اس سے بچنے کی کوشش کرے گا ) حکم الٰہی سے جہنم کو شہوات ولَذات کے پردوں سے ڈھانپ دیاگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو حکم دیا:دوبارہ جہنم کی طرف جاؤ ۔ جبریل علیہ السلام گئے اوربارگاہ الٰہی عزّوجلّ میں حاضرہو کر عرض کی:اے اللہ عزّوجلّ !تیری عزت وجلال کی قسم!مجھے خوف ہے کہ اب اس سے کوئی بھی نہ بچ پائے گا، بلکہ (شہوات میں مبتلاہوکر) اس میں جا پڑے گا۔ (1)
عورت کی تخلیق میں قدرت الٰہی کی نشانیاں اور بیوی کے ذریعے زندگی کا سکون
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ
ترجمہ : اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام
[1] … ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء حفت الجنۃ...الخ، ۴/۲۵۲، حدیث:۲۵۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع