30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے بیٹے زید کی بیوی سے شادی کرلی ہے۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بچپن میں اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سر کارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں ہبہ کردیا تھا۔ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُنہیں آزاد کردیا، تب بھی وہ اپنے باپ کے پاس نہ گئے بلکہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کی خدمت میں رہے ۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اُن پر شفقت و کرم فرماتے تھے، اس لئے لوگ اُنہیں حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرزند کہنے لگے ۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا پہلے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور جب حضرت زید رضی اللہ عنہن ے انہیں طلاق دے دی تو عدت گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں اپنی زوجیّت میں آنے کاشرف عطا فرما دیا۔ اس پر یہودیوں اور منافقوں نے اعتراض کیا تویہاں ان کا رد بھی فرما دیا گیا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کو لوگ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بیٹا کہتے ہیں لیکن اس سے وہ حقیقی طور پر سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بیٹے نہیں ہوگئے ،لہٰذا یہودیوں اور منافقوں کا اعتراض محض غلط ہے اور یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔(1)
یہاں اسی موضوع کے متعلق ایک اہم مسئلے کی نشان دہی کی جاتی ہے کہ کسی کے بچے کو لے کر پالنا تو شرعا جائز ہے اور اچھی نیت پر ثواب بھی ملے گا لیکن اس بچے کی ولدیت میں اس کے اصلی حقیقی باپ ہی کا نام لکھنا بولنا ضروری ہے، پالنے والے شخص کا نام حقیقی باپ کے طور پر بولنا لکھنا گناہ ہے۔ صحیح ولدیت استعمال کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ- (2)
ترجمہ :نہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے
اس آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے: اس آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ غیرِوالدکی طرف نسبت جائزنہیں ، بلکہ بعض علماء نےاس کوکبیرہ گناہوں میں شمارفرمایاہے۔(3)
حدیثِ پاک میں ہے : جس نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا حالانکہ اسے علم تھا کہ وہ اس کا
[1] … جلالین، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴، ص۳۵۱، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۴، ص۹۳۱، ملتقطاً
[2] … پ21،الاحزاب:5
[3] … روح المعانی ،11/147
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع