30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دینے والے لوگوں کو اس انسانیّت کُش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کر دیا ، اس سے معلوم ہو اکہ اسلا م عورتوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر طرح کے ظلم سے بچاتا ہے، چاہے وہ ظلم ان کی ناحق زندگی ختم کر کے کیا جائے یا ان کی عزت و ناموس اور ان کے جسم کے ساتھ کھیل کر یا ان کے جسم کی نمائش کروا کر کیا جائے۔اس سے ان لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے جوعورت کے بارے دین ِاسلام کے اَحکامات کو اس کے اوپر ظلم قرار دیتے ہیں ، چادر و چار دیواری کو عورت کے حق میں ناانصافی کہتے ہیں اورروشن خیالی اور نام نہادتہذیب و تَمَدُّن کے نام پر عورت کوشرم و حیا سے عاری کرنے میں اسلام کی شان سمجھتے ہیں ۔
منہ بولے بیٹے سے متعلق رسم جاہلیت کی اصلاح
ارشاد فرمایا:
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ-وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ-وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ(۴) (1)
ترجمہ : اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہاراحقیقی بیٹا بنایا، یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور الله حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔
منہ بولا بیٹا بنانے کے معاملے میں چند اصلاحات:
قدیم زمانے سے لوگوں کا یہ معمول ہے کہ اپنی اولاد نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور سبب سے کسی دوسرے کے بچے کو اپنا بیٹا بنا لیتے ہیں اور اس کے بعد اس منہ بولے بیٹے کے ساتھ تمام معاملات حقیقی بیٹے والے کرتے ہیں یعنی وہ بچہ وراثت میں حصہ دار بھی ہوتا ہے، اس سے پردے کے مسائل میں بھی بیٹوں جیسا معاملہ ہوتا ہے، ایسے بیٹے کی بیوی کو باپ کے حق میں ایسے ہی حرام سمجھتے ہیں جیسے حقیقی بیٹے کی بیوی کو حرام سمجھتے ہیں۔ الغرض اس قسم کی متعدد چیزیں آج پائی جاتی ہیں اور زمانہ جاہلیت میں بھی تھیں۔ آیت کے اس حصے میں اسی معاملے کی اصلاح فرمائی گئی کہ تمہارا کسی کو ”اے میرے بیٹے“ کہنا تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔
مفسرین کرام نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جب حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو یہود یوں اور منافقوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ (حضرت) محمد مصطفی صلی
[1] … پ21، الاحزاب:4
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع