30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(۵۹)(1)
گا ؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں۔
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جومشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں قرار دے رہے ہیں جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو غم، پریشانی اور پسند نہ ہونے کی وجہ سے سارا دن ا س کے چہرے کا رنگ بدلاہوا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھرا ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب مشرکین اپنے لئے ا س بات کو پسند نہیں کرتے کہ بیٹی ان کی طرف منسوب ہو تو اللہ عزّوجلّ کی طرف بیٹی کی نسبت کرنے کو انہوں نے کیسے پسند کر لیا۔ (2)
لڑکی پیدا ہونے پر رنج کرنا کافروں کا طریقہ ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ لڑکی پیدا ہونے پر رنج کرنا، کافروں کا طریقہ ہے، فی زمانہ مسلمانوں میں بھی بیٹی پیدا ہونے پرغمزدہ ہو جانے، چہرے سے خوشی کا اظہار نہ ہونے، مبارک باد ملنے پر جھینپ جانے، مبارک باد دینے والے کو باتیں سنا دینے، بیٹی کی ولادت کی خوشی میں مٹھائی بانٹنے میں عار محسوس کرنے، صرف بیٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے ماؤں پر ظلم و ستم کرنے اور انہیں طلاقیں دے دینے تک کی وبا عام ہے، حالانکہ بیٹی پیدا ہونے اور اس کی پرورش کرنے کی بہت فضیلت ہے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاں فرشتوں کو بھیجتا ہے، وہ آ کر کہتے ہیں: اے گھر والو! تم پر سلامتی نازل ہو، پھر اس بیٹی کا اپنے پروں سے اِحاطہ کر لیتے ہیں اور اس کے سر پر اپنے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک کمزور لڑکی ایک کمزور عورت سے پیدا ہوئی ہے، جو اس کی کفالت کرے گا توقیامت کے دن اس کی مدد کی جائے گی۔(3)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے ، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (4)
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کوعقلِ سلیم عطا کرے اور جس طرح وہ بیٹا پیدا ہونے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے اسی طرح بیٹی پیدا ہونے پر بھی خوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
[1] … پ14،النحل:58-59
[2] … خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳/۱۲۷، ملخصاً
[3] … معجم الصغیر، باب الالف، من اسمہ: احمد، ص۳۰، الجزء الاول
[4] … ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی فضل من عال یتیماً، ۴/۴۳۵، الحدیث: ۵۱۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع