30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُطَلَّقہ خاتونِ مغرب بعد از طلاق :
مغربی طلاق یافتہ عورت کو بعد از طلاق کسی طرح کے حقوق حاصل نہیں ہے، مغربی قانون کے مطابق بوقتِ طلاق شوہر اور بیوی کی جائیدادیں دونوں فریقوں میں برابرتقسیم کر دی جائیں گی، یہ قانون بہت سے مغربی ممالک میں رائج ہے،جسے انگلش میں ” No-fault divorce“ کہا جاتاہے۔ اس غیر منصفانہ قانون کی بدولت مغربی مرد قانونی بیوی کی بجائے گرل فرینڈ رکھنے کو ترجیح دیتا ہے کہ اُسے چھوڑنا آسان ہوتا ہے۔
حاصل کلام:
مذکورہ بالا تمام گفتگو سے آشکار ہے کہ اسلام نے عورت کی زندگی کے ہر ہر پہلو اور اس کی ذات کے تحفظ کے ہر ممکن ذریعے پر بہت زور دیا ہے۔ اسلام نے نہ صرف نصائح کے ذریعے مردوں کو ہر رشتے میں منسلک عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کی، بلکہ اسلامی فقہ میں باقاعدہ عورت کے حقوق کے متعلق قوانین موجود ہیں ،اُس پر کسی کا انفرادی عمل نہ ہونا، یہ دین وقانون کی کمزوری یا عیب نہیں، بلکہ اُس شخص کی ذاتی خامی ہے، الغرض اِسلام اپنی جگہ جامِع، کامل اور مکمل دین ہے۔ اِس میں کسی بھی صِنف، حتی کہ جانوروں وغیرہا کے بھی حقوق سلب ہونے کا شائبہ نہیں۔
مغربی عورت کا فطرت سے بغاوت کا نتیجہ:
مغربی تہذیب نےعورت کے فطرتی ، نفسیاتی اور جذباتی تقاضوں کو چھوڑ کر اور ہر میدان میں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کی جو غلطی کی تھی ،وہ لفظوں میں تو بڑی خوب صورت لگتی تھی لیکن مغرب کی عورت کو درپیش مسائل اور ذلت آمیز حالات ، درحقیقت اسی غلطی کا نتیجہ ہیں ، مغربی عورت گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مردوں کی طرح معاشی جدوجہد میں بھی جوت دی گئی ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے ساتھ کام ضرور کر رہی ہے لیکن عملا وہ مردوں کا دل بہلانے کا کھلونا بن گئی ہے۔ اس طرز ِزندگی کے کئی عشروں کے تجربے نے مغربی عورت پر یہ حقیقت روشن کر دی ہے کہ آزادی اور مساوات کے نام پر یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑا ہے، جس پر خود مغربی ماہرین متفق ہیں، لہذا آج مغربی عورت دوبارہ گھر کی پناہ گاہ میں واپس جانے کی آرزو مند ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع