30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھوں، عورت کی سب سے بڑی حیثیت ایک کھلونے کی ہے ۔ وہاں عورت کی عفت و عصمت کے الفاظ ایک اجنبی سی چیز ہیں۔
خاتونِ اسلام کا حق مہر:
اسلام نے شادی کے وقت مرد کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ شرعی معیار کے مطابق عورت کو ایک مخصوص رقم یا جو چیز قابل مہر ہو، وہ ادا کرے۔ بوقتِ نکاح عورت کی مرد پر حِلَّت کی یہ ایک اہم شرط ہے۔ یہ رقم جتنی بھی خطیر ہو، دلہن کے علاوہ کسی بھی شخص کو اس میں تصرف کرنے کا ہرگز کوئی اختیار نہیں۔ اس رقم پہ صرف اس عورت کا حق ملکیت ہوتا ہے۔ یہ حق عورت کی معاشی خودمختاری اور شوہر کی طرف سے عورت کو عزت و مان دینے کے لیے ایک نہایت اہم قدم ہے۔
مُطَلَّقہ خاتونِ اسلام بعد از طلاق :
اسلام نے جہاں طلاق کو ایک ناپسندیدہ کام قرار دیا ہے، وہیں اگر طلاق ناگزیر ہو جائے تو عورت کو ہر ممکن تحفظ بھی فراہم کیا ہے، چنانچہ اگر حق مہر کی رقم نکاح کے وقت ادا کر دی گئی ہے، تو ٹھیک ورنہ بعض صورتوں میں بعد میں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یونہی دینِ اسلام نے اِس موقع پر عورت کی حمایت کی اور بتایا کہ طلاق کے بعد بھی شوہر پر بیوی کے کچھ حقوق باقی ہیں اوروہ یہ کہ شوہر کو حکم ہے کہ بیوی کے ساتھ کم ظرفی اور نِیچ پَن کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ باوقار رویہ اختیار کرے جس کی ایک واجب صورت یہ ہے کہ شوہر نے حالتِ زوجیت میں بیوی کو جو تحائف دیے ہوں وہ اس سے واپس مانگنا شروع نہ کر دے، یہ حرام ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم نے جو کچھ عورتوں کو دیاہو اس میں سے کچھ واپس لو“ یعنی ایسا نہ ہو کہ طلاق کے بعد شوہر ساری ازدواجی زندگی کا حساب کتاب کرنے بیٹھ جائے اور کہے کہ اب یہ ساری رقم بیوی یا اُس کے گھر والے ہمیں ادا کریں۔شوہر کو حکم دیا گیا کہ یہ حرکتیں نہ کرے اور یہ اس کے لیے ہر گز جائز نہیں، بلکہ شوہرنے جو کچھ بیوی کو دے دیا، وہ اب بیوی کا ہے، شوہر کو اُس میں سے کچھ بھی واپس طلب کرنا حلال نہیں۔اِسی طرح جب عورت عِدّت میں ہو تو شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کے اخراجات اٹھائے اور اُسے رہائش مہیا کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع