30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پہاڑوں کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا۔
حضرت لوط علیہ السلام کی پاکیزہ بیٹیوں کا تذکرہ
حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیوں کانام تو قرآن مجید میں نہیں ہے لیکن نام کے بغیر کئی جگہ ذکر ہے، چند ایک جگہ تو بیٹیوں کے لفظ کے ساتھ ہے اور بقیہ جگہ ’’اھل ‘‘کے لفظ کے ساتھ ہے۔ یہ دو صاحبزادیاں تھیں اور دونوں مومنہ تھیں، کیونکہ قومِ لوط پر جب عذاب آیا تو یہ دونوں صاحبزادیاں حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ محفوظ رہیں اور اس عذاب سے صرف مومن مردوعورت ہی محفوظ رہے تھے اوردونوں صاحبزادیوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ ہی اپنی بستی کو چھوڑا تھا۔ اس حوالے سے سیرت الانبیاء میں تحریر ہے: جب اُس شہر پر عذاب آیا تو حضرت لوط علیہما السّلام اور ان پر ایمان لانے والے حضرات کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی وہاں سے نکال لیا اور اس شہر میں یہی گھرانہ مسلمان تھا ۔ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپ کی دونوں صاحب زادیاں تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہل بیت میں سے جن لوگوں نے نجات پائی ان کی تعداد 13تھی۔(1)
قرآن پاک میں ہے:
فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۳۵) فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ(۳۶)(2)
ترجمہ :تو ہم نے اس شہر میں موجود ایمان والوں کو نکال لیا۔ تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا۔
حضرت لوط علیہ السلام کی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نام زعوراء اور ایک کا نام ریثا تھا۔ تفسیر ابن عباس میں ہے :” وابنتیہ زعورا و ریثا “’’نجات پانے والے اہلِ لوط سے مراد آپ علیہ السلام کی دو بیٹیاں ’’زعورا ‘‘اور ’’ریثا‘‘ ہیں۔‘‘(3)البتہ تفسیر طبری میں زعوراء کی بجائے ’’ زغرتا ‘‘ ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ تفسیر طبری میں ہے :” کانت لہ ابنتان اسم الکبری ریثا و الصغری زغرتا “ ترجمہ :حضرت لوط علیہ السلام کی دو بیٹیاں تھیں، بڑی کا نام ریثا اور چھوٹی کا نام زغرتا تھا۔ (4)
ان صاحبزادیوں کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذی رحم رشتے دار بھی ہیں
[1] … خازن، الذریت، تحت الآیة:۳۵-۳۶، ۴/۱۸۴، ابو سعود، الذریت، تحت الآیة:۳۵-۳۶، ۵/۶۳۱،ملتقطاً.
[2] …پ۲۷،الذاریت:۳۵،۳۶،
[3] … تنویر المقیاس ، ص 132
[4] … طبری، ہود،تحت الآیہ:77، 7/80، حدیث:18368
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع