30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتی ہے، ماں بیٹے کے مالِ وراثت سے حصہ حاصل کرتی ہے، البتہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ بیٹے پر اپنے خاندان کی معاشی کفالت فرض ہے جبکہ بیٹی اس بوجھ سے آزاد ہے۔
خاتونِ مغرب کا حق جائیداد:
مغرب میں عورت کو ووٹ کا حق، گواہی کا حق اور جائیداد میں وراثت کا حق ملے ،ابھی ڈیڑھ صدی بھی نہیں گزری، جبکہ وہاں وراثت کے قوانین، اسلامی قوانین جیسے جامع اور قابلِ عمل بھی نہیں ہیں۔جس انداز میں اسلام نے عورت کو ہر رشتہ کے اعتبار سے حق وراثت دیا، اس انداز کا مغربی قانون میں تصور بھی نہیں۔
خاتونِ اسلام کا حق عفت و عصمت:
مردوں پر عورتوں کے حوالے سے جتنی بھی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، اُن میں ایک بنیادی مقصد عورت کی عصمت وعفت کی حفاظت ہے۔اِسی لیے نامحرم مردوں اور عورتوں میں کسی قسم کی صنفی کشش دکھانے کے انداز کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔آیت حجاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پردے کا حکم دے کر، اصلاً اُمت کے تمام مردوں کو مخاطب کیا گیا کہ وہ عورتوں کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے اُن سے احکامِ ستروحجاب کی پابندی کروایا کریں۔ خاندان کے مردوں پر عورتوں کے حوالے سے یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ عورت کی عفت کی حفاظت کریں۔دینِ اسلام نے عورت کی عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے مختلف اقدامات بیان کیے ، جن میں سے کچھ یہ ہیں۔ عورت کی آواز بغیر ضرورت غیرمردوں تک نہ پہنچے۔ عورت ایسا برقع یا چادر اوڑھ کر باہر نہ نکلے جو جاذبِ نظر ہو۔ عورت بغیر محرم، سفرِ شرعی نہ کرے، بلکہ محرم مرد یا شوہر کے ساتھ جائے، مردانہ خوشبو لگا کر باہر نہ نکلے کہ مرد اُس کی طرف متوجہ ہوں، نامحرم مردوں کی موجودگی میں ایسا زیور پہن کر نہ نکلے، جس کے باہم ٹکرانے سے آواز پیدا ہو، جیسے چُوڑیاں وغیرہ، یونہی اپنا زیور اور بناؤ سنگھار نامحرم مردوں پر ظاہر نہ ہونے دے۔ اِن تمام احکامات میں درحقیقت عورت کی عصمت کی حفاظت مقصود ہے۔
خاتونِ مغرب کا حق عفت و عصمت:
مغربی تہذیب میں عورت کی عصمت کی حفاظت کا کوئی تصور نہیں،وہاں اگر بیٹی،بہن،بیوی، اپنے باپ ،شوہر،بھائی کے سامنے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ جاتی ہے، تو کوئی اسے روکنے کا اختیار نہیں ر کھتا ،وہاں مرد کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع