30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھی ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور اگر باقاعدہ شادی ہو بھی جاتی ہے تو بیوی اپنے معاشی معاملات کی ازخود ذمہ دار ہوتی ہے۔ گھر کے سارے اخراجات شوہر اور بیوی کو آپس میں تقسیم کرنا ہوتے ہیں۔ اسلام عورت کو جو معاشی پابندیوں سے آزادی دیتا ہے، اُس کا وہاں تصور تک نہیں، بلکہ جس طرح مردہر وقت فکرِ معاش کرتا ہے، یونہی اُس کی بیوی بھی اِسی چکی میں پستی ہے۔
خاتونِ اسلام کا خاندانی مقام:
اسلام میں لفظِ ”خاندان“ ایک وسیع معنی رکھتا ہے، یعنی اِس میں صرف شوہر ،بیوی بچے نہیں، بلکہ دیگر بہت سارے رشتے شامل ہوتے ہیں۔دینِ اسلام میں اُن رشتوں کو یکجا رکھنا اور سب سے رشتہ محبت استوار رکھنا مطلوب ہے اور اِس میں بنیادی اور کلیدی کردار عورت کا ہی ہے کہ عورت خاندان کی اساس اور بنیاد ہےکہ وہ مردوں سے زیادہ اپنی اولاد کی نگہبان ہے اور ان کے دلوں میں محبت، اطمینان، اخلاص اور قرب الٰہی کا بیج بوتی ہے، الغرض گودِ مادرسے کی گئی یہی تربیت خاندان کی مضبوطی کا باعث بنتی ہے۔
خاتونِ مغرب کا خاندانی مقام:
مغرب میں عورت کی آزادی نے خاندانی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، نوجوان نسل کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے، جنہیں اپنی ماں کا پتہ ہے تو باپ کا پتہ نہیں،باپ کا پتہ ہے تو ماں غائب ہے یا پھردونوں ہی لاپتہ ہیں اور بچہ کسی سرکاری پرورش خانے میں پروان چڑھ رہا ہے ۔ جب اِن رشتوں کی ہی خبر نہیں تو بہن اور بھائی کے رشتے کا تصور تو دور کی بات ہے۔ مغربی ماں اپنی ممتا کی قربانی دے کر بھی کچھ حاصل نہیں کر سکتی۔ خالی گود اور ویران گھر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ جس ملازمت ، عیش و عشرت ،آزادی ،کی خاطر اپنا سب کچھ برباد کیا،اُسی کے نتیجے میں خود اس کا اپناوجود خطرات کی زد میں ہے۔ اُس کے لیے ایک ہی وقت میں بیوی اور ملازم پیشہ عورت کا کردار ادا کرنا نہایت مشکل ہے۔یہ ساری حالت اُس کی خاندانی حیثیت کو بالکل ختم کر دیتی ہے۔
خاتونِ اسلام کا حق جائیداد:
دینِ اسلام کسی فرد کے انتقال کے بعد بلاتفریقِ صِنف، سب کو وراثت میں سے حصہ مہیا کرتا ہے، چنانچہ شوہر کی وفات پر بیوی مخصوص شرعی معیار کے مطابق حصہ پاتی ہے، بیٹی باپ کے ترکے سے حصہ وصول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع