30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاتونِ مغرب بحیثیت بہن:
بہن اور بھائی کا رشتہ محبت سے بھرپور رشتہ ہے، تاہم مغربی ممالک میں یہ رشتہ ایک معمولی سا رشتہ ہے کہ جب والدین اور اولاد کا رشتہ بھی کمزور ہے تو بہن بھائی والا تو اس سے زیادہ کمزور ہے بلکہ مغربی تہذیب کے نتیجے میں خود ان میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو بہن بھائی کے درمیان میں بیوی جیسے تعلق کو درست سمجھتا ہے اور اس طبقے کو ایک خاص نام دیا جاتا ہے ۔ خود مغربی تہذیب میں بھی اس طبقے کو اگرچہ نہایت گھٹیا سمجھا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس حد تک پہنچانے میں ہاتھ کس کا ہے؟ کوئی آسمانی مخلوق آکر ایسی سوچ بنا گئی یا خود مغرب نے عورتوں کے حوالے سے جو تباہ کن تہذیب اختیار کی تھی اسی کے نتیجے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں پھر یہ برا سمجھنا بھی کچھ عرصے تک ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کی بہت سی خباثتوں کو قبول کرنے کی عادت کے پیش نظر اب بھی مغربی معاشرے سے امید ہے کہ ان حرکتوں کو برا سمجھنا بھی چھوڑ دیں گے بلکہ ان کے حقوق کے لئے ریلیاں نکالیں اور پارلیمنٹ میں قراردادیں پاس کریں گے اور بڑی بڑی شخصیات ان سے اظہارِ یکجہتی بلکہ خود اپنے اعمالِ بد بھی بیان کریں گی۔
خاتونِ اسلام بحیثیت بیوی :
تمام سابقہ تہذیبوں میں عورت کو شیطان کا آلہ کار سمجھا جاتا تھا ، لیکن اسلام نے اِسے مرد کے ایمان کی محافظہ قرار دیا۔ اسلام نے بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری مرد کو سونپ کر عورت کو مکمل طور پر فکر ِمعاش سے آزاد کر دیا،شوہر کو بیوی کا محافظ بنایا گیا ،قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے نسل انسانی کے تسلسل و بقاء کے لیے ازدواجی زندگی کو اپنی نعمت قرار دیا،بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی،شوہر کے مالِ وراثت میں بیوی کا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
خاتونِ مغرب بحیثیت بیوی:
مغربی معاشرہ میں مرد اور عورت کے ایک ساتھ رہنے کے لیے رشتہِ ازدواج میں منسلک ہونا ضروری نہیں، بلکہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا تعلق ہو جانا ہی کافی ہے، نیز وہ اِسی ناجائز تعلق کی بنیاد پر بچوں کے ماں باپ بن جاتے ہیں، پھر دل کیا تو آپس میں نکاح کر لیا، ورنہ ایسے ہی زندگی گزار دی یا ایک دوسرے کو چھوڑ کر نیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع