30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاتونِ مغرب بحیثیت بیٹی:
مغربی معاشرے میں بیٹا ہو یا بیٹی، والدین کی ذمہ داری صرف اٹھارہ برس تک ہوتی ہے، لیکن اِن اٹھارہ سالوں میں بھی والدین جبراً کسی کام کو کرنے کا حکم نہیں دے سکتے یا کسی غلط کام سے روک نہیں سکتے اور جب عمر کے اٹھارہ سال مکمل ہو جائیں تو اولاد اور بالخصوص بیٹیاں اپنے معاملات میں مکمل خود مختار ہیں، وہ جو چاہیں کریں، جہاں مرضی جائیں، جس مرضی فرد کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کریں یا شادی کے لیے لڑکا تلاش کریں، یہ سب بیٹی کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ اُسے اُس کی مرضی سے کوئی اور تو کیا، اپنے والدین بھی روکنے پر مختار نہیں، چنانچہ اِسی مادر پدر آزادی نے اُس بیٹی کو سرِ بازار رُسوا کیا ،اُس کو مردوں کے لیے ایک کھلونا بنایا،اُسے بے راہ روی کی راہ چلایا،اُسے سینما گھر ، وی سی آر، ڈش اور کیبل کے شیطانی جال میں پھنسایا۔ یہ سب نسوانی آزادی کے نام پر کیا گیا۔
خاتونِ اسلام بحیثیت بہن:
اسلام میں بہن کے رشتے کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔قرآن کریم میں جہاں عورت کے دیگر معاشرتی و سماجی حقوق کا تعین کیا گیا ہے ، وہاں بطور بہن بھی اس کے حقوق بیان کیے گئے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ-اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ- (1)
ترجمہ : اے حبیب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کسی مرد کا انتقال ہو جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی (حصہ ہوگا)۔
احادیثِ مبارکہ میں کئی جگہ بھائیوں کو بہن کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عملاً اپنی رضاعی بہن حضرت شَیْمَا رضی اللہ عنہا کو عزت و اکرام سے نواز کر، بھائیوں کیلئے عملی نمونہ پیش کیا۔
[1] … پ6،النساء:176
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع