30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاتونِ اسلام و خاتونِ مغرب کا تقابلی جائز ہ!
ایک شور بڑا عام ہے کہ مغرب نے عورت کو حقوق دئیے ہیں ۔ اہل ِ مغرب حقوق ِ نسواں کا لفظ بڑی کثرت سے استعمال کرتےہیں ۔ آئیے تھوڑی سی اس کی حقیقت بھی دیکھ لیتے ہیں کہ عورتوں کے حقوق دینے کے بعد مسلمان خاتون کو کیا ملا اور کیا ملتا ہے جبکہ عورتوں کے حقوق کے نام پر مغربی خاتون کے ساتھ کیا دھوکہ کیا گیا ہے؟
خاتونِ اسلام بحیثیت ماں:
اسلام میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کا درجہ باپ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اہلِ ایمان کی جنت ، ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے میں ممتاز ومعزز مقام عطا کیا۔ماں کی خدمت کے بےشمار فضائل اسلام میں بیان کیے گئے ہیں۔ شرک کی ممانعت کے بعد سب سے پہلے والدین کے ساتھ اِحسان کی تلقین کی گئی ہے، خود عملی طور پہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہمیشہ نہایت ادب و احترام اور محبت کا برتاؤ رکھا۔
خاتونِ مغرب بحیثیت ماں:
مغربی معاشرہ ایک مادَر پدر آزاد معاشرہ ہے۔ایک عورت بحیثیت ماں بھی اپنی اولاد کو غلط کاموں سے نہیں روک سکتی،والدین تربیت کی غرض سے بھی بچوں کو مارنے کے قانوناً مجاز نہیں۔ اٹھارہ سال ہوتے ہی، بیٹے ہوں یا بیٹیاں، اپنے ہر طرح کے فیصلے میں خود مختار ہو جاتے ہیں۔ ماں کا کوئی معاشی کفیل اور پُرسان حال نہیں ہوتا،یہی وجہ ہے کہ والدین کا بڑھاپا اکثروبیشتر اولڈ ہوم (Old Home)میں ہی گزرتا ہے۔
خاتونِ اسلام بحیثیت بیٹی:
وہ معاشرہ جہاں بیٹی کی پیدائش کو ذِلَّت ورسوائی کا سبب قرار دیا جاتا تھا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بیٹی کو احترام وعزت کا مقام عطا کیا۔ بیٹی کے ساتھ مَحبَّت کی لازوال مثالیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اپنی بیٹیوں کے ساتھ مَحبَّت کے نرالے رویوں میں دیکھی جا سکتی ہیں، بالخصوص حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی مَحبَّت کہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنی بیٹی کا استقبال کرنا ۔ سبحان اللہ العظیم ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع