30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شانِ نزول :
عبد اللہ بن اُبی بن سلول منافق مال حاصل کرنے کے لئے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا، ان کنیزوں نے تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس کی شکایت کی، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم مال کے لالچ میں اندھے ہو کر کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو خصوصاً اگر وہ خود بھی بچنا چاہتی ہوں اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بہت بخشنے والا، مہربان ہے اوراس کا وبال گناہ پرمجبور کرنے والے پر ہے۔(1)
زِنا پر مجبور کئے جانے کی تفصیل :
علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :زنا پر مجبور کیا جانااس وقت ثابت ہو گا جب کوئی جان سے مار دینے یا جسم کا کوئی عضو ضائع کر دینے کی دھمکی دے اور اگر (ایسی دھمکی نہ ہو بلکہ) تھوڑی بہت دھمکی ہو توزنا پر مجبور کیا جانا ثابت نہ ہوگا۔(2)
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کوئی عورت سچے دل کے ساتھ زنا سے بچنا چاہتی ہے اور کوئی شخص اسے زنانہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے یا اس کا کوئی عضو ضائع کر دینے یا شدید مار مارنے کی دھمکی دے رہا ہے اور عورت سمجھتی ہے کہ اگر میں نے ا س کی بات نہ مانی تو یہ جو کہہ رہاہے وہ کر گزرے گا، اس صورت میں وہ زنا کئے جانے پر مجبور شمار ہو گی اور اگر اس کے ساتھ زنا ہوا تو وہ گناہگار نہیں ہو گی اور اگر دھمکی کی نوعیت ایسی نہیں بلکہ قید کر دینے یا معمولی مار مارنے وغیرہ کی دھمکی ہے تو ایسی صورت میں عورت زنا پر مجبور شمار نہ ہوگی اور زِنا ہونے کی صورت میں گناہگار بھی ہو گی۔
عورتوں کو زنا پر مجبور کرنے والے غور کریں:
یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ میں جو کنیزوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے منع فرمایا گیا، اس حکم میں کنیزوں کے ساتھ ساتھ آزاد عورتیں بھی داخل ہیں اور انہیں بھی زنا پر مجبور کرنا منع ہے،نیز زنا پر مجبور کرنا دنیا کا مال طلب کرنے کیلئے ہو یا کسی اور غرض سے بہر صورت حرام اور شیطانی کام ہے اور آیت کے آخر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زنا
[1] … خازن، النور، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳/۳۵۲-۳۵۳، ملخصاً
[2] … روح البیان، النور، تحت الآیۃ: ۳۳، ۶/۱۵۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع