30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان فرمایا ہےکہ جب (دو مرتبہ)طلاق دینے کے بعد ان کی عدت ختم ہونے لگے تو رجوع کر کے اپنے پاس روک لیں یا ان کو چھوڑ دیں ؛جو بھی فیصلہ ہو وہ اچھے اور بھلائی والے انداز میں ہو ، یہ نہیں کہ اس کو نقصان پہنچانے کے لیے روکے رکھو یہ سوچتے ہوئے کہ ذرا ان کو بھی معلوم تو ہو کہ میں بھی کیا چیز ہوں ، تو ظلم و زیادتی کے لیے ان کو روکنا جائز نہیں جس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جس نے عورتوں پر ظلم کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور ظالموں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
مزید فرمایا کہ اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بنا لو۔ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری بیویوں کو حلال کرکے ان کے حقوق ادا کرنے، ان کے ساتھ پیار محبت سے پیش آنےاور ان سے حسن معاشرت کا حکم دیا اور تم شادی کے معاملے اور دیگر تمام احکام کو مذاق بنالو تو یہ اللہ کی آیتوں کو مذاق بنانے کے مترادف ہے۔بلکہ تم اللہ کا احسان یاد کرو اور اللہ کا احسان یہ ہے کہ ایک جملہ بولتے ہی یہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہوجاتی ہیں ،اس کے علاوہ کتاب اور حکمت کے ذریعے اللہ تعالیٰ جو تمہیں نصیحت کرتا ہے اس کو بھی یاد کرو۔
مزید فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہےاور اللہ یہ بھی جانتا ہے جو تم عورتوں پر ظلم کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہو کہ مجھے روکنے والا کوئی نہیں ہے اور میں مفت کا فرعون بنا ہوا ہوں ،جو چاہے کروں اور جیسے چاہوں کروں اور پھر اس پر ظلم کر کے اور اس کے ماں باپ کو تنگ و رسوا کرکے دکھ پہنچاؤں؛ لہذا اللہ کی پکڑ اور ا س کی سخت گرفت سے ڈرو ۔
عورتوں کو بدکاری پر مجبور کرنا حرام ہے
ارشاد فرمایا:
وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۳) (1)
ترجمہ : اورتم دنیوی زندگی کا مال طلب کرنے کیلئے اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو (خصوصاً) اگر وہ خود (بھی) بچنا چاہتی ہوں اور جو انہیں مجبور کرے گا تو بیشک اللہ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد بہت بخشنے والا، مہربان ہے۔
[1] … پ18،النور:33
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع