30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو اپنے فرزند پر بہت شفقت کرتے اور اس سے بڑا پیار کرتے ہیں ۔ شیطان نے کہا: ان کا گمان یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پھر اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ (1)
اس واقعہ کا ذکر مفسرین نے ان آیات مبارکہ کے تحت کیا ہے :
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲) فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ(۱۰۳)(2)
ترجمہ :پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَاءَ اللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔
حضرت ہاجرہ کے فضائل:
(1)آپ رضی اللہ عنہا خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ اور ذبیح اللہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ ہیں۔
(2) آپ رضی اللہ عنہا کے فرزند کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دنیامیں جلوہ گری ہوئی۔
(3)آپ رضی اللہ عنہا نے حکم الٰہی پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے نونہال حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ساتھ ویران اور سنسان ترین جگہ پر قیام کر کے ایمان کی مضبوطی، قوت یقین ، صبر وہمت اور عزم و استقلال کی ایک شاندار مثال قائم کی۔
(4)صفا اور مروہ پہاڑوں کے درمیان آپ کے چلنے اور دوڑنےکے انداز کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے ہر حاجی اور عمرہ کرنے والے پر لازم کر دیا۔
(5)صفا اور مروہ پہاڑوں کے درمیان آپ کی جدو جہد بارگاہِ الٰہی میں اس قدر مقبول ہوئی کہ قرآن مجید
[1] … خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۴/۲۳
[2] … پ23،صافات:102، 103
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع