30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ-وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ(۱۵۸)(1)
گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے چکر لگائے اور جو کوئی اپنی طرف سے بھلائی کرے تو بیشک اللہ نیکی کابدلہ دینے والا، خبردار ہے۔
مکہ مکرمہ کی آباد کاری:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :بیت اللہ کی جگہ ٹیلے کی طرح زمین سے بلند تھی، سیلاب اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کر لے جاتا تھا۔،وقت یونہی گزرتا رہا یہاں تک کہ جُرہم قبیلے کے قافلے یا جُرہم والوں کا وہاں سے گزر ہوا۔وہ مقام کداء کے راستے سے آ رہے تھے اور مکہ کے نشیبی علاقے میں ٹھہرے،انہوں نے چند پرندوں کو اڑتے ہوئے دیکھا تو کہا:یہ پرندے پانی کے گرد چکر لگا رہے ہیں حالانکہ ہم اس وادی میں پہلے بھی ٹھہرے تھے اس وقت تو یہاں بالکل پانی نہیں تھا۔پھر انہوں نے ایک یا دو آدمی بھیجے تو انہوں نے واقعی وہاں پر پانی دیکھااور جا کر قبیلے والوں کو خبر دی تو وہ لوگ بھی وہاں آ گئے۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا پانی کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ۔قبیلے والوں نے پوچھا:کیا آپ اجازت دیتی ہیں کہ ہم آپ کے قریب ہی ٹھہر جائیں ؟آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہاں،لیکن تمہارا پانی پر کوئی حق نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: (یوں) حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کو لوگ مل گئے اور انہیں بھی پسند تھا کہ قریب میں انسان ہوں، چنانچہ یہ لوگ وہاں ٹھہر گئے اور انہوں نے اپنے گھر والوں کو بھی یہیں بلا لیا یہاں تک کہ اس جگہ کئی گھر آ باد ہو گئے۔(2)
حضرت ہاجرہ کا ابلیس کو جواب:
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند کو ذبح کرنے کیلئے چلے تو شیطان ایک مرد کی صورت میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا:کیا آپ جانتی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کے صاحبزادے کو لے کر کہاں گئے ہیں ؟آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:وہ اس گھاٹی میں لکڑیاں لینے کیلئے گئے ہیں ۔ شیطان نے کہا: خدا کی قسم! ایسانہیں ،وہ تو آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں ۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہرگز ایسا
[1] … پ2،البقرہ:158
[2] … بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب یزفون النسلان فی المشی، ۲/۴۲۵، حدیث:۳۳۶۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع