30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی حمایت کرنا یا کسی کی غریبی پر ترس کھاکر دوسرے فریق پر زیادتی کردینا، یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں رکاوٹ ہیں، ان سب کو شمار کروا کر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ فیصلہ کرتے ہوئے اور گواہی دیتے ہوئے جو صحیح حکم ہے اس کے مطابق چلو اور کسی قسم کی تعلق داری کا لحاظ نہ کرو حتّٰی کہ اگر تمہارا فیصلہ یا تمہاری گواہی تمہارے سگے ماں باپ کے بھی خلاف ہو تو عدل سے نہ ہٹو۔غورکریں کہ ماں سے زیادہ محبوب و مرغوب اور قریبی رشتہ کون سا ہوگا اور ماں باپ سے بڑھ کر انسان پر کس کا حق ہوگا لیکن اس کے باوجود فرمایا کہ عدل و انصاف کے معاملے میں یہ رشتہ بھی رکاوٹ نہ بنے۔
بیوی اور باندی کے ساتھ حسن سلوک
ارشاد فرمایا:
وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ- (1)
ترجمہ : اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔)
آیت میں والدین اور دیگر کئی طرح کے افراد سے حسن سلوک کا حکم دیا گیالیکن کتاب کے موضوع کی مناسبت سے ان میں سے خواتین کا جداگانہ تذکرہ کیا جاتا ہے۔والدین کا ذکر گزر چکا، یہاں بقیہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
پہلو کے ساتھی سے حسنِ سلوک کرنا:
پہلو کے ساتھی سے مراد بیوی ہے یا وہ جو صحبت میں رہے جیسے رفیق ِسفر، ساتھ پڑھنے والایا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے حتّٰی کہ لمحہ بھر کے لئے بھی جو پاس بیٹھے اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم ہے۔بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ بہت واضح ہے کہ جو قربت اسے حاصل ہے وہ کسی کو حاصل نہیں۔ بیوی سے حسن سلوک شریعت کے نہایت تاکیدی احکام میں سے ہے۔ اس پر تفصیلی کلام سماجیات و معاشرت کے باب میں گزر چکاہے۔
لونڈی غلام کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا:
باندیوں اور غلاموں سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ، سخت کلامی نہ
[1] … پ5 ، النساء :36
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع