30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں باپ گناہ کرتے ہوں توان کی اصلاح کیسے کی جائے؟
ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے، اگرمان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے، اوران کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ توضرور کروں گا یا توبہ سے انکارکرنا دوسراسخت کبیرہ ہے مگر مُطْلَقاً کفرنہیں جب تک کہ حرامِ قطعی کوحلال جاننا یاحکمِ شرع کی توہین کے طور پرنہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی ہاں اگر مَعَاذَ اللہ یہ انکاربروجہ ِکفر ہو تووہ مُرتَد ہوجائیں گے، اورمرتد کے لئے مسلمان پرکوئی حق نہیں ۔ (1)
والدین کی اصلاحی باتوں پر بیزار ہونے کی ممانعت
ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَ جَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْۚ-وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ ﳓ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚۖ-فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۱۷)(2)
ترجمہ : اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا: تمہارے لئے اُف( تم سے دل بیزار ہوگیاہے)کیا مجھے ڈراتے ہو کہ میں نکالاجاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کئی زمانے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور بیٹے سے کہتے ہیں ) تیری خرابی ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو وہ کہتا ہے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ۔
آیت کامفہوم یہ ہے کہ وہ شخص جسے ا س کے والدین نے ایمان کی دعوت دی تو اس نے اپنے ماں باپ سے کہا: اُف تم سے دل بیزار ہوگیاہے ،کیا تم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے زندہ کر کے نکالاجاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کئی زمانوں کے لوگ گزر چکے ہیں ، ان میں سے توکوئی مر کر زندہ نہ ہوا ۔ اس کے مقابلے میں ماں باپ کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ وہ ان کے بیٹے کی مدد فرمائے اور اسے ایمان کی توفیق دے اور بیٹے سے کہتے ہیں : اے بیٹے! تیری خرابی ہو،تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان لے آ، بیشک اللہ تعالیٰ نے مُردے زندہ کرنے کا جو وعدہ فرمایا وہ سچا ہے، لیکن بیٹا انہیں جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے کہ جسے تم اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہہ رہے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ تو پہلے لوگوں کی
[1] … فتاویٰ رضویہ، ۲۵ / ۲۰۴-۲۰۵
[2] … پ26 ، الاحقاف:17
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع