30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے معلوم ہوا کہ بندے کو ماں باپ کا مادری پدری حق ضرور ادا کرنا چاہئے اگرچہ وہ کافر ہوں ۔ان کی خلافِ ایمان اور خلافِ شریعت بات تو نہیں مانی جائے لیکن اس کے باوجود دنیاوی امور میں ان سے اچھا سلوک کیا جائے گا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس زمانہ میں قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے معاہدہ کیا تھا ،میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ ! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اِعراض کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں؟ ارشاد فرمایا: اس کے ساتھ سلوک کرو۔ (1) یعنی کافرہ ماں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے گا۔
اسی مناسبت سے یہاں کافر والدین کے حقوق سے متعلق 2شرعی احکام ملاحظہ ہوں۔
(1) کافر والدین کا نفقہ بھی مسلمان اولاد پر لازم ہے۔
(2) اگر کافر ماں باپ بت خانے وغیرہ سے گھر تک چھوڑنے کا کہیں تو انہیں گھر تک چھوڑے اور اگر وہ گھر سے بت خانے وغیرہ تک چھوڑنے کا کہیں تو انہیں نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ گھر تک چھوڑنا گنا ہ نہیں اور بت خانے چھوڑنا گناہ ہے۔ (2)
ایمان کی حقوقِ والدین پر فوقیت کا بیان
ارشاد فرمایا:
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًاؕ-وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاؕ-اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸)(3)
ترجمہ : اور ہم نے (ہر) انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی اور (اے بندے!) اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کی بات نہ مان۔میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں تمہیں تمہارے اعمال بتادوں گا۔
[1] … بخاری، کتاب الادب، باب صلۃ الوالد المشرک، ۴/۹۶، الحدیث: ۵۹۷۸
[2] … روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۴۵۰
[3] … پ20، العنکبوت:8
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع