30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دے کر مَعَاذَ الله باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے یااسے جواب دے یابے اَدبانہ آنکھ ملا کر بات کرے، یہ سب باتیں حرام اور الله عزّوجلّ کی مَعْصِیَت ہیں، (اس میں ) نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائزنہیں ، وہ دونوں اس کی جنت ونار ہیں ، جسے ایذادے گا دوزخ کامستحق ہوگا وَ الْعِیَاذُ بِ الله ، مَعْصِیَت ِخالق میں کسی کی اطاعت نہیں ، اگرمثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے، ہونے دے اور ہرگز نہ مانے، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میں ، ان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابلِ لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نری زیادتی ہے کہ اس سے الله تعالیٰ کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کوترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیں ، اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کابھی حاکم وآقا ہے ۔(1)
والدین کا شکریہ:
آیت میں فرمایا: اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ:کہ میرا اور اپنے والدین کا شکرادا کرو۔
یہ وہ تاکید ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا تھا اور اس سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ والدین کا مقام انتہائی بلند ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے اپنے ساتھ بندے کے والدین کا ذکر فرمایا اور ایک ساتھ دونو ں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا،اب اگر کوئی بد قسمت اپنے والدین کی خدمت نہ کرے اور انہیں تکلیفیں دے تو یہ ا س کی بد نصیبی اور محرومی ہے ۔حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس نے پنج گانہ نمازیں ادا کیں وہ الله تعالیٰ کا شکر بجالایا اور جس نے پنج گانہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کیں تو اس نے والدین کی شکر گزاری کی۔ (2)
کافر والدین کے حقوق :
آیت میں فرمایا: وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میراشریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
[1] … فتاوی رضویہ، رسالہ: الحقوق لطرح العقوق، ۲۴/۳۸۷-۳۹۰، ملتقطاً
[2] … بغوی، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۴۲۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع