30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے:
یہاں ماں کے تین درجے بیان فرمائے گئے ایک یہ کہ اس نے کمزوری پر کمزوری برداشت کی،دوسرا یہ کہ اس نے بچے کو پیٹ میں رکھا،تیسرا یہ کہ اسے دودھ پلایا،اس سے معلوم ہوا کہ ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھی ماں کی باپ سے تین درجے زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی:میری اچھی خدمت کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہاری ماں ۔اس نے عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہاری ماں۔اس نے دوبارہ عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہاری ماں ۔عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہاراباپ۔ (1)
ماں کاحق باپ کے حق پرمقدم ہے:
اعلیٰ حضرت، مُجدّدِدین وملت،شاہ امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :اولاد پرماں باپ کا حق نہایت عظیم ہے اور ماں کاحق اس سے اعظم، قَالَ الله تَعَالٰی:
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ-
ترجمہ : اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے اور اسے جنا تکلیف سے اور اس کاپیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں ہے۔
اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھر خاص الگ کرکے گنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کو شمار فرمایا جو اسے حمل وولادت اور دوبرس تک اپنے خون کاعطر پلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کاحق بہت اَشد واَعظم ہوگیا مگر اس زیادت کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں ، دینے میں باپ پرماں کوترجیح دے مثلاً سوروپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانعِ تفضیلِ مادر (یعنی ماں کو فضیلت دینے میں رکاوٹ) نہیں توباپ کو پچیس دے ماں کو پچھتر، یاماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا توپہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو یادونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھرباپ کے وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاس، نہ یہ کہ اگروالدین میں باہم تنازع ہو توماں کا ساتھ
[1] … بخاری، کتاب الادب، باب من احقّ الناس بحسن الصحبۃ، ۴/۹۳، الحدیث: ۵۹۷۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع