30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ؟ لڑکے نے یہی کہا توفرشتے نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو، جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے۔ جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی۔ (1)
والدین کا شکریہ ادا کرنے اور والدہ کے خصوصی لحاظ کا حکم
ارشاد فرمایا:
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴) وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-(2)
ترجمہ : اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی۔ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانے کی مدت دو سال میں ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکرادا کرو۔میری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر کوشش کریں کہ تو کسی ایسی چیز کو میراشریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے
اس آیت کی ابتدا میں فرمایا کہ الله تعالیٰ نے آدمی کو اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہنے ا ور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔ پھراس کاسبب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا،یعنی اس کی ماں کی کمزوری میں ہر وقت اضافہ ہوتا رہتا ہے ، جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے اور بوجھ زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے ، عورت کو حاملہ ہونے کے بعد کمزوری ،تھکن اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں ، حمل خود کمزور کرنے والاہے، دردِ زِہ کمزوری پر کمزوری ہے اور وضعِ حمل اس پر اور مزید شدت ہے اور دودھ پلانا بھی مستقل مشقت کا ذریعہ ہے ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ بچے کا دودھ چھڑانے کی مدت ولادت کے وقت سے لے کر دو سال تک ہے۔ (3)
[1] … خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۷، ۱ / ۶۰-۶۱
[2] … پ21 ، لقمان:14-15
[3] … جلالین، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۳۴۶-۳۴۷، خازن، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳/۴۷۰، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۹۱۷، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع