30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2) بعض علماء نے فرمایا: برے نام رکھنے سے مراد کسی مسلمان کو کتا ،یا گدھا، یا سور کہنا ہے ۔
(3) بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ اَلقاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو اور جو اَلقاب گویا کہ نام بن گئے اور اَلقاب والے کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں ،جیسے اَعمَش اور اَعرَج وغیرہ۔(1)
عورتوں میں نام بگاڑنے کی عادت بھی کم نہیں۔ کسی عورت کا کوئی برا نام رکھ دیا جاتا ہے، پھر کبھی تو اس کے سامنے اور اکثر پیٹھ پیچھے اسے اسی نام سے یاد کرتی ہیں، یہ ناجائز و حرام ہے۔ ہر علاقے کی خواتین نے اپنے انداز میں نام رکھے ہوتےہیں، معاذ اللہ ۔
مذاق اڑانے، طعنہ دینے اورنام بگاڑنے والے فاسق ہیں:
مزید فرمایا: بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ: مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے۔
یعنی تو اے مسلمانو، کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ اور جو لوگ ان تمام افعال سے توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔(2)
آیت” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ “ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے تین مسئلے معلوم ہوئے :
(1) مسلمانوں کی کوئی قوم ذلیل نہیں ،ہر مومن عزت والا ہے ۔
(2) عظمت کا دار و مدار محض نسب پر نہیں تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے ۔
(3) مسلمان بھائی کو نسبی طعنہ دینا حرام اور مشرکوں کا طریقہ ہے آج کل یہ بیماری مسلمانوں میں عام پھیلی ہوئی ہے۔ نسبی طعنہ کی بیماری عورتوں میں زیادہ ہے، انہیں اس آیت سے سبق لینا چاہیے نہ معلوم بارگاہِ الٰہی میں کون کس سے بہتر ہو۔
[1] … خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۷۰
[2] … خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۱۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع