30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئےاور انہیں بیت اللہ کے پاس ایک گھنے درخت کے نیچے بٹھا دیا،یہ درخت مسجد کے اوپروالی جانب میں اس جگہ تھا جہاں زم زم ہے، ان دنوں مکہ میں نہ کوئی رہتا تھا اور نہ ہی و ہاں پانی تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں وہاں بٹھا کر ان کے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کی مشک رکھ دی اور منہ پھیر کر وہاں سے روانہ ہوئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے گئیں اور عرض کی:اے ابراہیم! آپ ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جس میں نہ کوئی انسان ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کئی بار دہرائی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی ،تب آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے آ پ کو ا س کا حکم دیاہے؟ارشاد فرمایا:ہاں۔عرض کی:تب تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہ ہونے دے گا۔پھر آپ لوٹ گئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب ثنیہ (پہاڑی) پر پہنچے اور ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے تو آپ علیہ السلام نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی ۔(1)
یہ واقعہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے اللہ پر مضبوط ایمان ، اس کی قدرت پر یقین، صبر و شکر اور تسلیم و رضا کی بہت بڑی دلیل ہے ۔
حضرت ہاجرہ کے فرزند کی پیاس اور چشمہ ٔ زمزم:
اپنی جگہ پہنچ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو گود میں لے کر اکیلی بیٹھ گئیں، پھر وقت یوں گزرنے لگا کہ ا ٓپ رضی اللہ عنہا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلادیتیں اور خود(مشک سے)پانی پی لیا کرتی تھیں یہاں تک کہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو انہیں بھی پیاس لگی اور فرزندکو بھی( کیونکہ دودھ ختم ہونے کی وجہ سے آپ علیہ السلام دودھ نہ پی سکے تھے۔)حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا اپنے نونہال کی طرف دیکھ رہی تھیں جو(حلق خشک ہونے کی وجہ سے)بے قرار ہو رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہا غمزدہ ہو کر وہاں سے ہٹ گئیں اور دیکھا کہ ان کے نزدیک ترین صفا پہاڑ ہے،آپ اس پر چڑھیں اور وادی کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگیں کہ شاید کوئی انسان دکھائی دے لیکن انہیں کوئی نظر نہ آیا، پھر صفا پہاڑ سے اتریں یہاں تک کہ جب وادی میں پہنچیں تو انہوں نے اپنی قمیص کا دامن اٹھالیا (تاکہ اس سے الجھ کر گر نہ پڑیں)پھر کسی بے کل انسان کی طرح تیز دوڑیں حتی کہ وادی سے نکل گئیں ،پھر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں کہ شاید کوئی نظر آئے لیکن انہیں
[1] … بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب یزفون النسلان فی المشی، ۲/۴۲۴، حدیث:۳۳۶۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع