30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ پہنچاؤ،حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھی مزاح کرو تو تمہارے لئے بھی کوئی حرج نہیں لیکن مزاح کو پیشہ بنا لینا بہت بڑی غلطی ہے۔(1)
مزید فرماتے ہیں :وہ مزاح ممنوع ہے جو حد سے زیادہ کیا جائے اور ہمیشہ اسی میں مصروف رہا جائے اور جہاں تک ہمیشہ مزاح کرنے کا تعلق ہے تو اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ کھیل کود اور غیر سنجیدگی ہے ،کھیل اگرچہ (بعض صورتوں میں ) جائز ہے لیکن ہمیشہ اسی کام میں لگ جانا مذموم ہے اور حد سے زیادہ مزاح کرنے میں خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مر دہ ہوجاتا ہے، بعض اوقات دل میں بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہَیبَت و وقار ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمت نہیں ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک میں بھی مزاح کرتا ہوں اور میں (خوش طبعی میں ) سچی بات ہی کہتا ہوں ۔(2)
لیکن یہ بات تو آپ کے ساتھ خاص تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا لیکن جہاں تک دوسرے لوگوں کا تعلق ہے تو وہ مزاح اسی لئے کرتے ہیں کہ لوگوں کو ہنسائیں خواہ جس طرح بھی ہو اور (اس کی وعید بیان کرتے ہوئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ہم مجلس لوگوں کوہنساتا ہے ،اس کی وجہ سے ثُرَیّا ستارے سے بھی زیادہ دور تک جہنم میں گرتا ہے۔(3)
اللہ تعالیٰ ہمیں جائز خوش طبعی کرنے اور ناجائز خوش طبعی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
طعنے دینے کی حرمت:
فرمایا: وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ: اورآپس میں کسی کوطعنہ نہ دو ۔
اس آیت کا ایک معنیٰ یہ بنتا ہے کہ اپنی جانوں کو طعنہ نہ دو۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے معنیٰ یہ بنا کہ قول یا اشارے کے ذریعے ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ کیونکہ مومن ایک جان کی طرح ہے جب کسی دوسرے مومن پرعیب لگایاجائے گاتوگویااپنے پرہی عیب لگایاجائے گا۔(4)
[1] … احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللّسان، الآفۃ العاشرۃ المزاح، ۳/۱۵۹
[2] … معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۲۸۳، الحدیث: ۹۹۵
[3] … مسند احمد ، مسند ابی ہریرہ، ۳/۳۶۶ ، الحدیث: ۹۲۳۱، احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفۃ العاشرۃ المزاح، ۳/۱۵۸
[4] … روح المعانی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۳/۴۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع