30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پُرانی چادریں ہوتی ہیں اور انہیں کوئی پناہ نہیں دیتا (لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا رتبہ ومقام یہ ہوتا ہے کہ) اگروہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں (کہ اللہ تعالیٰ فلاں کام کرے گا) تو اللہ تعالیٰ (وہ کام کر کے) ان کی قسم کو سچا کر دیتا ہے۔(1)
حضر ت حارث بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ ہر وہ شخص ہے جو کمزور اور (لوگوں کی نگاہوں میں ) گرا ہوا ہے، اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی قسم سچی کر دے گا۔(2)
ہنسی اور خوش طبعی کی جائز حدود:
آیت ِمبارکہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتیں کسی صورت آپس میں ہنسی، خوش طبعی نہیں کر سکتیں بلکہ چند شرائط کے ساتھ ان کا آپس میں ہنسی خوش طبعی کرنا جائز ہے،یاد رہے کہ کچھ شرائط جواز کی ہیں اور کچھ اعتدال کی۔ وہ شرائط یہ ہیں:
(1) فحش اور بے حیائی کی بات نہ ہو۔
(2) کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
(3) بڑوں کی بے ادبی نہ ہو۔
(4)چھوٹوں سے بد لحاظی نہ ہو کہ اس سے ان کی تربیت خراب ہوتی ہے۔
(5) وقت و محل کے حساب سے بے موقع نہ ہو جیسے عبادت کے وقت اور مقدس جگہ مثلاً مسجد نبوی، مسجد حرام میں نہ ہو، نہ گھر کے معززین کے درمیان ہو اور نہ ہی کسی نیک بزرگ کی مجلس میں ہو۔
(6) جائز ہنسی کے معاملات بھی بہت کثرت سے نہ ہوں بلکہ اعتدال ہو۔
(7)عمر و مرتبہ میں برابر کی خواتین سے کی جائے کہ عرف میں اسے معیوب نہ سمجھا جائے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (عورتوں کی ایک دوسرے سے) جائز ہنسی جس میں نہ فحش ہو نہ ایذائے مُسلم،نہ بڑوں کی بے ادبی،نہ چھوٹوں سے بد لحاظی،نہ وقت و محل کے نظر سے بے موقع،نہ اس کی کثرت اپنی
[1] … ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب البراء بن مالک، ۵/۴۵۹، الحدیث: ۳۸۸۰
[2] … ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، ۱۳-باب، ۴/۲۷۲، الحدیث: ۲۶۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع