30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب:10
سماجیات و معاشرت
اس باب میں سماج و معاشرتی اقدار سے متعلق عورتوں کے چند احکام کا بیان ہے۔
عورتوں کے لئے چند اہم معاشرتی احکام
ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) (1)
ترجمہ : اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔
اس آیت ِمبارکہ کے مختلف حصوں کا نزول مختلف واقعات میں ہوا ہے ، جن سے یہ مسئلہ واضح ہوتاہے کہ اگر کسی شخص میں فقر، محتاجی اور غریبی کے آثار نظر آئیں تو ان کی بنا پرا س کا مذاق نہ اڑایا جائے ،ہو سکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے کے مقابلے میں دینداری کے لحاظ سے کہیں بہتر ہو۔
یہاں عورتوں کے متعلق بطورِ خاص تنبیہ والے حصے کی تفسیر پیش ہے کہ فرمایا:’’ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ: اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں ۔
شانِ نزول:
اس کے شانِ نزول کے بارے میں دو رِوایات ہیں،ایک یہ کہ کسی زوجہ مطہرہ نے حضرت ِاُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کو چھوٹے قد کی وجہ سے شرمندہ کیا تھا اور دوسری روایت یہ ہے کہ آیت کا یہ حصہ اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنت حُیَی رضی اللہ عنہا کے حق میں اس وقت نازل ہوا جب ایک زوجۂ مُطَہَّرہ کی زبان سے ان کےلئے
[1] … پ26، الحجرات:11
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع