30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جس مرد کے ساتھ چاہے اپنا وقت گزارے اور اپنی فطری خواہشات کو پورا کرے تو وہاں کا حال کیسا عبرت ناک ہے کہ ان کا معاشرہ بگڑ گیا اور خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا، شادیوں کی ناکامی، طلاقوں کی تعداد اور حرامی بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوگیا اور یہ سب تباہی عورت کو بے پردہ کرنے کا ہی نتیجہ ہے۔
اجتماعی توبہ کا حکم:
آیت کے آخر میں فرمایا کہ ’’ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا ‘‘ تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو۔
یعنی اے مسلمانو! جن باتوں کا تمہیں حکم دیا گیا اور جن سے منع کیا گیا، اگر ان میں بشری تقاضے کی بنا پر تم سے کوئی تقصیر واقع ہوجائے تو تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ا س امید پر توبہ کر لو کہ تم فلاح پا جاؤ۔(1)
اور توبہ سے متعلق حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ا س سے بھی زیادہ راضی ہوتا ہے جیسے تم میں سے کسی کا اونٹ جنگل میں گم ہونے کے بعد دوبارہ اسے مل جائے۔(2)
بوڑھی عورتوں کے پردے سے متعلق احکام
ارشاد فرمایا:
وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍؕ-وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۶۰)(3)
ترجمہ : اورگھروں میں بیٹھ رہنے والی وہ بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی کوئی خواہش نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے اوپر کے کپڑے اُتار رکھیں جبکہ زینت کو ظاہر نہ کررہی ہوں اور اِن کا اس سے بھی بچنا ان کے لیے سب سے بہتر ہے اور اللّٰہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
ا س آیت میں بوڑھی عورتوں کے بارے میں فرمایا گیاکہ ایسی بوڑھی عورتیں جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہو اور ان سے اولاد پیدا ہونے کی امید نہ رہی ہو اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں نکاح کی کوئی خواہش نہ ہو تو ان پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ اپنے اوپر کے کپڑے یعنی اضافی چادر وغیرہ اُتار کر رکھ دیں جبکہ وہ اپنی زینت کی جگہوں مثلا
[1] … خازن، النور، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۳۵۰
[2] … بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، الحدیث: ۶۳۰۹
[3] … پ18،النور:60
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع