30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے ان مردوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن کے سامنے عورت اپنی پوشیدہ زینت کے اعضا مثلاً سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں وغیرہ ظاہر کر سکتی ہے۔ چنانچہ وہ مرد حضرات درج ذیل ہیں:
(1) شوہر۔
(2) باپ۔ اس کے حکم میں دادا پَر دادا وغیرہ تمام اصول شامل ہیں۔
(3) شوہروں کے باپ یعنی سُسرکہ وہ بھی مَحرم ہوجاتے ہیں۔
(4) اپنے بیٹے۔ اِنہیں کے حکم میں اِن کی اولاد بھی داخل ہے۔
(5) شوہروں کے بیٹے کہ وہ بھی مَحرم ہوگئے۔
(6،7) سگے بھائی۔ سگے بھتیجے۔
(8) سگے بھانجے۔ اِنہیں کے حکم میں چچا، ماموں وغیرہ تمام مَحارِم داخل ہیں۔
(9) مسلمان عورتوں کے سامنے۔ غیر مسلم عورتوں کے سامنے کھولنا منع ہے چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تھا کہ کُفَّار اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمام میں داخل ہونے سے منع کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کو کافرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں۔
(10) اپنی ملکیت میں موجود کنیزوں کے سامنے۔ ان پر اپنا سنگار ظاہر کرنا ممنوع نہیں اور غلام اِن کے حکم میں نہیں، اس کو اپنی مالکہ کی زینت کی جگہوں کو دیکھنا جائز نہیں۔
(11) مردوں میں سے وہ نوکرجوشہوت والے نہ ہوں مثلاً ایسے بوڑھے ہوں جنہیں اصلاً شہوت باقی نہیں رہی ہو اوروہ نیک ہوں۔
یاد رہے کہ ائمہ حنفیہ کے نزدیک خصی اور عنین نظر کی حرمت کے معاملے میں اجنبی کا حکم رکھتے ہیں۔ اس طرح بُرے اَفعال کرنے والے ہیجڑوں سے بھی پردہ کیا جائے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث سے ثابت ہے۔
(12) وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں، وہ ابھی ناسمجھ نابالغ ہیں۔(1)
[1] … مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۷۷۸، خازن، النور، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۳۴۹، خزاءن العرفان، النور، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۶۵۶، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع