30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) غیر مردوں کو نہ دیکھیں:
آیت کے ا س حصے ’’ وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ ‘‘ میں مسلمان عورتوں کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور غیر مردوں کو نہ دیکھیں۔ حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں حاضر تھیں اسی وقت حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیں پردہ کا حکم فرمایا تومیں نے عرض کی : وہ تو نابینا ہیں، ہمیں دیکھ اور پہچان نہیں سکتے۔ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو اور کیا تم ان کو نہیں دیکھتیں۔(1)
عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنے کا شرعی حکم:
یہاں ایک مسئلہ یاد رہے کہ عورت کا اجنبی مردکی طرف نظر کرنے کا وہی حکم ہے، جو مرد کا مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے اور یہ اس وقت ہے کہ عورت کو یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی طرف نظر کرنے سے شہوت پیدا نہیں ہوگی اور اگر اس کا شبہ بھی ہو تو ہر گز نظر نہ کرے۔
(2)اپنی زینت نہ دکھائیں:
فرمایا:’’ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ‘‘اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے۔
ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے عورت سجتی سنورتی ہے جیسے زیوراورسرمہ وغیرہ اور چونکہ محض زینت کے سامان کو دکھانا مباح ہے اس لئے آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضا کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں اور پنڈلیاں، البتہ بد ن کے وہ اعضا جوعام طور پر ظاہر ہوتے ہیں جیسے چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں،انہیں چھپانے میں چو نکہ مشقت واضح ہے اس لئے ان اعضا کو ظاہر کرنے میں حرج نہیں۔(لیکن فی زمانہ چہرہ بھی چھپایا جائے گا) (2)
[1] … ترمذی، کتاب الادب، باب احتجاب النساء،۴/۳۵۶، الحدیث: ۲۷۸۷، ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی قولہ: وقل للمؤمنات…الخ، ۴/۸۷، الحدیث: ۴۱۱۲
[2] … مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۷۷۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع