30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلالہ کی وراثت کے احکام:
آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:
(1) اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔
(2) اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔
(3) اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔
مسلمان عورتوں کو پردے کا حکم اور اس کا فائدہ
ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹) (1)
ترجمہ : اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
زمانۂ جاہلیّت میں یہ طریقہ تھاکہ آزادعورتیں اور باندیاں دونوں قمیص اوردوپٹہ پہنے چہرہ کھول کرباہرنکلتی تھیں اورجب رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے کھجوروں کے جھنڈ اورنشیبی زمینوں میں جاتیں تو بدکارلوگ باندیوں کے پیچھے جاتے اوربعض اوقا ت وہ آزادعورتوں پربھی دست درازی کرتے اوریہ کہتے کہ ہم نے اس کوباندی گمان کیاتھا۔اس پر آزادعورتوں کویہ حکم دیاگیاکہ وہ چادر سے جسم ڈھانک کر سر اور منہ چھپا کر باندیوں سے اپنی وضع ممتاز کر دیں تاکہ کوئی شخص ان کے متعلق بری خواہش نہ کرے۔(2)
چنانچہ فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ، آپ اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات، اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیں کہ جب انہیں کسی حاجت کے لئے گھر سے باہر نکلنا پڑے تو وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈال کر رکھیں اوراپنے سر اور چہرے کو چھپائیں ۔ اگرآزادمسلمان عورتیں اس طرح چادر
[1] … پ22، الاحزاب:59
[2] … البحرالمحیط، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۹، ۷/۲۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع