30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعد ان کے بیٹے علیہ السلام کی بھی خوشخبری دی۔
(2) آپ رضی اللہ عنہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریک حیات تھیں۔
(3) آپ رضی اللہ عنہا کی والدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خالہ تھیں ۔
(4)آپ رضی اللہ عنہا اپنی عمر کے آخری لمحہ تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مطیع و فرمانبردار رہیں۔
(5)آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق اور ان کی پیروی کی ۔
(6) آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شادی کے بعدتمام مصائب و آلام میں صبر وتحمل کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ساتھ دیا۔
(7)نارِ نمرود سے سلامتی سے نکل جانے کے بعد جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کی تو حضرت سارہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں اور سفر کی ساری صعوبتیں برداشت کیں۔
(8)عفت و پاکدامنی میں حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کا کردار نہایت اعلیٰ تھا جیسا کہ سفرِہجرت میں بادشاہ کے پاس جاکر آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی۔
(9) حضرت سارہ رضی اللہ عنہا صاحبہِ کرامت ولیہ تھیں جیسا کہ اوپربخاری کی روایت میں بیان ہوا۔
(10)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا ایثار وقربانی کی پیکر تھیں کہ شادی کے چند سال بعد جب ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی کنیز ہاجرہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کر دیا جن سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔
(11)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا پر خاص عطائے الٰہی کا ظہور اور رب کی قدرت کا اظہار ہوا کہ نوے یا ننانوے سال کی عمر میں ماں بنیں ۔
(12)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا بہت مہمان نواز تھیں کہ مہمان نوازی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ساتھ آپ رضی اللہ عنہا ہی دیتی تھیں ، چنانچہ قرآن مجید کے جس واقعے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہاں فرشتوں کے مہمان بن کر آنے کا تذکر ہ ہے اور یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فورا ہی مہمانوں کی خاطر و تواضع کے لئے اسباب فراہم کئے اور بہترین بھنا ہوا بچھڑے کا گوشت لائے ، وہاں قرآن مجید میں ساتھ میں حضرت سارہ رضی اللہ عنہا ہی کا تذکرہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع