30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہا ہے)پھر اس ظالم بادشاہ نےحضرت سارہ کو اپنے پاس بلا لیا۔ وہ انہیں پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہا نے اٹھ کر وضو کیا اورنماز پڑھ کر یہ دعا کی:اے اللہ !اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے ماسواسے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے تو تواس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا۔ا س دعا کے بعداس کافر کا دم گھٹ گیا(اور اس کے گلے سے خرخراہٹ کی آواز نکلی)اور وہ(بے چینی سے)اپنا پاؤں زمین پر مارنے لگا۔(اس کی یہ حالت دیکھ کر)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی:اے اللہ !اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ سارہ نے اسے قتل کر دیا ہے ۔(اس دعا کی برکت سے) بادشاہ ٹھیک ہوگیا۔لیکن پھر(بری نیت سے) آپ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھاتوآپ نے اٹھ کر وضو کیا اورنماز پڑھ کریہ دعا کی:اے اللہ !اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے ماسِواسے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے تو تواس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا،چنانچہ پھر اس کا دم گُھٹ گیا اور وہ اپنا پاؤں زمین پر مارنے لگا۔حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی :اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر جب دوسری یا تیسری بار میں ظالم بادشاہ کو چھوڑ دیا گیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم!تم لوگوں نے میرے پاس ایک سرکش جن بھیج دیا ہے اسے ابراہیم کے پاس لوٹا دو اوراسے آجَر عطا کر دو۔اس کے بعد حضرت سارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ناکام و نامراد کر دیا اور ہمیں ایک خادمہ عطا کی ہے۔(1)
تنبیہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی زوجہ کو بہن کہنا بظاہر حقیقت کے خلاف ہے لیکن ایک دوسرے اعتبار سے درست ہے کیونکہ آپ علیہ السلام نے انہیں بہن کہہ کر چچا زاد بہن یا دینی رشتے کے لحاظ سے اسلامی بہن مراد لیا تھا اور یہ حقیقت کے عین مطابق ہے۔
حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے فضائل:
آپ رضی اللہ عنہا کے بہت سے فضائل ہیں جن میں اکثر فضائل قرآن و حدیث ہی سے ماخوذ ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
(1) اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو بیٹے اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اسحاق علیہ السلام کے
[1] … بخاری،کتاب البیوع،باب شراء المملوک…الخ،۲/۴۹،حدیث:۲۲۱۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع