30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگانے کی سزا سے متعلق چند شرعی مسائل:
یہاں آیت میں بیان کی گئی سزا سے متعلق چند شرعی مسائل ملاحظہ ہوں:
(1) جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کر سکے تو اس پر 80کوڑوں کی حد واجب ہوجاتی ہے۔ آیت میں مُحْصَنَاتْ کا لفظ (یعنی صرف عورتوں پر تہمت لگانے کا بیان) مخصوص واقعہ کے سبب سے وارد ہوا یا اس لئے کہ عورتوں کو تہمت لگانا بکثرت واقع ہوتا ہے۔
(2) ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں اور ان پر حد جاری ہوچکی ہو وہ مَرْدُوْدُ الشَّہَادَۃ ہوجاتے ہیں، یعنی ان کی گواہی کبھی مقبول نہیں ہوتی۔ پارسا سے مراد وہ ہیں جو مسلمان، مُکَلَّف، آزاد اور زنا سے پاک ہوں۔
(3) زنا کی گواہی کا نصاب چار گواہ ہیں۔
(4) حد ِقَذَف یعنی زنا کی تہمت لگانے کی سزامطالبہ پر مشروط ہے، جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے تو قاضی پر حد قائم کرنا لازم نہیں۔
(5) جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ زندہ ہو تو مطالبہ کا حق اسی کو ہے اور اگر مر گیا ہو تو اس کے بیٹے پوتے کو بھی ہے۔
(6) غلام اپنے مولیٰ کے خلاف اور بیٹا باپ کے خلاف قذف یعنی اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگانے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
(7) قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحتہً کسی کو اے زانی کہے یا یہ کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے یا اس کے باپ کا نام لے کر کہے کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یا اس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے جبکہ اس کی ماں پارسا ہوتو ایسا شخص قَاذِف یعنی زنا کی تہمت لگانے والاہوجائے گا اور اس پر تہمت کی حد لازم آئے گی۔
(8) اگر غیر مُحْصَنْ کو زنا کی تہمت لگائی مثلاً کسی غلام کو یا کافر کو یا ایسے شخص کو جس کا کبھی زنا کرنا ثابت ہو تو اس پر حدِ قذف قائم نہ ہوگی بلکہ اس پر تعزیر واجب ہوگی اور یہ تعزیر 3سے 39کوڑے تک جتنے شرعی حاکم تجویز کرے اتنے کوڑے لگانا ہے، اسی طرح اگر کسی شخص نے زنا کے سوا اور کسی گناہ کی تہمت لگائی اور پارسا مسلمان کو اے فاسق، اے کافر، اے خبیث، اے چور، اے بدکار، اے مُخَنَّث، اے بددیانت، اے لوطی، اے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع