30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مِائَةَ جَلْدَةٍ۪-وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ-وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآىٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲)(1)
میں ہر ایک کو سوسو کوڑے لگاؤ اوراگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو توتمہیں اللہ کے دین میں ان پر کوئی ترس نہ آئے اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود ہو۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زنا کی حد بیان فرمائی اور حُکّام سے خطاب فرمایا کہ جس مرد یا عورت سے زنا سرزد ہو تو اس کی حدیہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگاؤ۔(2)
غیر مُحْصَنْ زانی کی سزا:
یاد رہے کہ حد ایک قسم کی سزا ہے جس کی مقدار شریعت کی جانب سے مقرر ہے کہ اُس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اوراس سے مقصودلوگوں کو اس کام سے باز رکھنا ہے جس کی یہ سزا ہے۔(3)اوراس آیت میں بیان کی گئی زنا کی حد آزاد، غیر مُحْصَنْ کی ہے کیونکہ آزاد،مُحْصَنْ کا حکم یہ ہے کہ اسے رَجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حضرت ماعِز رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم سے رجم کیا گیا۔(4)
مُحْصَنْ وہ آزاد مسلمان ہے جو مُکَلّف ہواور نکاحِ صحیح کے ساتھ خواہ ایک ہی مرتبہ اپنی بیوی سے صحبت کرچکا ہو۔ ایسے شخص سے زنا ثابت ہو تو اسے رجم کیا جائے گا اور اگر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہو مثلاً آزادنہ ہو یا مسلمان نہ ہو یا عاقل بالغ نہ ہو یا اس نے کبھی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا جس کے ساتھ صحبت کی ہو اس کے ساتھ نکاح فاسد ہوا ہو تو یہ سب غیرمُحْصَنْ میں داخل ہیں اور زنا کرنے کی صورت میں ان سب کا حکم یہ ہے کہ انہیں سو کوڑے مارے جائیں۔
بدکار کی حد سے متعلق شرعی مسائل:
یہاں آیت میں ذکر کی گئی حد سے متعلق 2 اَہم شرعی مسائل ملاحظہ ہوں:
(1) زنا کا ثبوت یا تو چار مَردوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زنا کرنے والے کے چار مرتبہ اقرار کرلینے
[1] … پ18،النور:2
[2] … مدارک، النور، تحت الآیۃ: ۲، ص۷۶۸
[3] … درمختار مع ردالمحتار، کتاب الحدود، ۶/۵
[4] … بخاری ، کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ ، باب ہل یقول الامام للمقرّ : لعلّک لمست او غمزت ، ۴ / ۳۴۲ ، الحدیث: ۶۸۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع