30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۱۶)(1)
پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اوراپنی اصلاح کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔
بے حیائی کا اِرتکاب کرنے والوں کے متعلق سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ایذاء دو جیسے جھڑک کر، برا بھلا کہہ کر، شرم دلا کر، جوتیاں وغیرہ مار کرزبانی اور بدنی دونوں طرح سے ایذا دو۔ زنا کی سزا پہلے ایذا دینا مقرر کی گئی، پھر قید کرنا، پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا۔(2)
یہ آیت بھی حد ِزنا کی آیت سے منسوخ ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ پچھلی آیت میں فاحشہ سے مرا د خود عورت کا عورت سے بے حیائی کا کام کرنا ہے اور ’’ وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا ‘‘ سے مرد کا مرد سے لَواطَت کرنا مراد ہے۔ اس صورت میں یہ آیت مَنسوخ نہیں بلکہ مُحکم ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لواطت اور مساحقت (عورتوں کی عورتوں سے بے حیائی) میں حد مقرر نہیں بلکہ تَعزیر ہے۔ یعنی قاضی کی صوابدید پر ہے وہ جو چاہے سزا دے۔ یہ ہی امامِ اعظم ابو حنیفہ کا قول ہے۔(3)
مزید فرمایا گیا کہ بے حیائی کا ارتکاب کرنے والے اگر پچھلے گناہوں پر نادم ہو جائیں اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو ۔اس سے معلوم ہوا کہ تعزیر کا مستحق مجرم اگر تعزیر سے پہلے صحیح معنی میں توبہ کر لے تو ا س پر خواہ مخواہ تعزیر لگانا ضروری نہیں۔
توبہ کے معنی:
توبہ کے معنی ہوتے ہیں رجوع کرنا، لوٹنا۔ اگر یہ بندے کی صفت ہو تو معنی ہوں گے گناہ یا ارادہ ِگناہ سے رجوع کرنااور اگر رب تعالیٰ کی صفت ہو تو معنی ہوں گے بندے کی توبہ قبول فرمانا یا اپنی رحمت کو بندے کی طرف متوجہ کرنا۔
غیر شادی شدہ زانی کی شرعی سزا
ارشاد فرمایا:
اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا
ترجمہ : جوزنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مردہو تو ان
[1] … پ4، النساء:16
[2] … مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۲۱۷
[3] … تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۵۲۸، تفسیرات احمدیہ، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۲۴۲، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع