30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے میاں بیوی میں جدائی واقع ہوگی، بغیر قاضی کے نہیں اور یہ جدائی طلاقِ بائنہ ہوگی۔ اور اگر مرد گواہی دینے کی اہلیت رکھنے والوں میں سے نہ ہو مثلاً غلام ہو یا کافر ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو تو لعان نہ ہوگا اور تہمت لگانے سے مرد پر حد ِقذف لگائی جائے گی اور اگر مرد گواہی کی اہلیت رکھنے والوں میں سے ہو اور عورت میں یہ اہلیت نہ ہو، اس طرح کہ وہ باندی ہو یا کافرہ ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو یا بچی ہو یا مجنونہ ہو یا زانیہ ہو، اس صورت میں نہ مرد پر حد ہوگی اور نہ لعان۔ نوٹ: لعان سے متعلق مزید مسائل کی معلومات کے لئے بہارِ شریعت جلد2 حصہ8سے ’’لِعان کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
ابتدائے اسلام میں بدکار عورتوں کی سزا
ارشاد فرمایا:
وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْۚ-فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا(۱۵)(1)
ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرلیں ان پر اپنوں میں سے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند کردو یہاں تک کہ موت ان (کی زندگی) کو پورا کردے یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ بنا دے۔
مسلمانوں میں سے جو عورتیں زنا کا اِرتِکاب کریں ان کے بارے اس آیت میں حکم دیا گیا کہ ان پر زنا کے ثبوت کیلئے چار مسلمان مردوں کا گواہ ہوناضروری ہے جو عورتوں کے زنا پر گواہی دیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں حکام سے خطاب ہے یعنی وہ چار مردوں سے گواہی سنیں۔(2)
بدکاری کے ثبوت کے لئے گواہی کی شرائط:
زنا کا ثبوت گواہی سے ہو تو ضروری ہے کہ زنا کے گواہ چار عاقل ،بالغ ، مسلمان مرد ہوں کوئی عورت نہ ہو، چاروں نیک اور متقی ہوں ، اور انہوں نے ایک وقتِ مُعَیَّن میں زنا کا یوں مشاہدہ کیا ہو جیسے سرمہ دانی میں سلائی نیز یہ چاروں گواہ حلفِ شرعی کے ساتھ گواہی دیں۔ اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہوئی تو زنا ثابت نہ ہو گا اور گواہی دینے والے شرعاً اسی اسی کوڑوں کے مستحق ہوں گے۔(3)
[1] … پ4، النساء :15
[2] … خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱/۳۵۷
[3] … فتاوی رضویہ، ۱۳/۶۲۳، ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع