30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر اس سے نہ نکاح میں خلل آئے ،نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو۔(1)
اس شرعی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کواپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو تنگ آ کر یامذاق مَسخری میں اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے ہیں:او میری ماں !بس کر۔جا بہن چلی جا وغیرہ۔انہیں چاہئے کہ پہلے جتنی بار ایسا کہہ چکے اس سے توبہ کریں اور آئندہ خاص طور پر احتیاط سے کام لیں ۔
ظہار کا کفارہ
ارشاد فرمایا:
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْؕ-اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ- وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ(۲) وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاؕ-ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۳) فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاۚ-فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًاؕ-ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴)(2)
ترجمہ : تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ،ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا اور بیشک وہ ضرورناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضرور بہت معاف کرنے والا ، بہت بخشنے والا ہے۔ اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کا تدارک(تلافی) کرنا چاہیں تو (اس کا کفارہ) میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرناہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ پھر جو شخص (غلام) نہ پائے تو میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا (شوہر پر لازم ہے) پھر جو (روزے کی) طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ( لازم ہے) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[1] … فتاویٰ رضویہ، باب الظہار، ۱۳/۲۸۰
[2] … پ28،المجادلہ:4
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع