30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍۙ- وَّ اﻼ لَمْ یَحِضْنَؕ -وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ-وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا(۴)(1)
اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی اور جنہیں حیض نہیں آیاان کی عدت تین مہینے ہے اور حمل والیوں کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی فرمادے گا۔
شانِ نزول:
صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کی: حیض والی عورتوں کی عدت تو ہمیں معلوم ہوگئی،اب جو حیض والی نہ ہوں تو اُن کی عدت کیا ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ تمہاری عورتوں میں جوبڑھاپے کی وجہ سے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہوں ،اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو کہ ان کا حکم کیاہے تو سن لو، ان کی اور جنہیں ابھی کم عمری کی وجہ سے حیض نہیں آیاان کی عدت تین مہینے ہے اور حمل والیوں کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں اورجو اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا۔(2)
جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ان کی عدت سے متعلق مسائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ان کی عدت کے بارے میں4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں :
(1) بڑھاپے کی وجہ سے جب حیض منقطع ہوجائے وہ سنِ اِیاس ہے،اور اس عمر میں پہنچی ہوئی عورت کی عدت تین ماہ ہے۔
(2) لڑکی نابالغہ ہو یااس کے بالغ ہونے کی عمر تو آگئی مگر ابھی حیض نہیں شروع ہوا تو اُن دونوں کی عدت تین ماہ ہے۔
(3) حاملہ عورتوں کی عدت وضعِ حمل ہے خواہ وہ عدت طلاق کی ہو یا وفات کی۔
(4) وضعِ حمل سے عدت پوری ہونے کے لیے کوئی خاص مدت مقرر نہیں ، موت یا طلاق کے بعد جس
[1] … پ28، الطلاق:4
[2] … مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۲۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع