30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یاد رہے کہ مرد و عورت دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں لیکن مرد کو بہرحال عورت پر فضیلت حاصل ہے اور اس کے حقوق عورت سے زیادہ ہیں۔
فوت شدہ آدمی کی بیوی کی عدت کا بیان
ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۳۴)(1)
ترجمہ : اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب وہ اپنی(اختتامی) مدت کو پہنچ جائیں تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کرلیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
اسآیت میں فوت شدہ آدمی کی بیوی کی عدت کا بیان ہے کہ فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی۔(2)یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے۔
عدت کے3 اہم مسائل:
(1) شوہر کی وفات کی یا طلاقِ بائن کی عدت گزارنے والی دورانِ عدت نہ گھر سے باہر نکل سکتی اورنہ بناؤ سنگھار کرسکتی ہے خواہ زیور سے کرے یا رنگین و ریشمی کپڑوں سے یا خوشبو ، تیل اور مہندی وغیرہ سے ۔ اگر کوئی عورت عدت کی پابندیاں پوری نہ کرے تو جو اسے روکنے پر قادر ہے وہ اسے روکے، اگر نہیں روکے گا تو وہ بھی گناہگار ہوگا۔
(2) جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اس کو زینت اور سنگار کرنا مستحب ہے۔
(3) وفات کی عدت گزارنابیوی پر مُطلقاً لازم ہے خواہ جوان ہو یا بوڑھی یا نابالغہ، یونہی عورت کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ مزید تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ8کا مطالعہ کریں۔
[1] … پ2،البقرہ:234
[2] … فتاوی رضویہ، ۱۳/۲۹۴-۲۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع