30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظلم کرنے اور عورت سے اپنے انتقام کی آگ بجھانے کیلئے رجوع کرنا سخت برا ہے۔رجوع اصلاح کی نیت سے ہونا چاہیے۔افسوس کہ ہمارے ہاں اِس جہالت کی بھی کمی نہیں ، بیویوں کو ظلم وستم اور سسرال سے انتقام لینے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے حتیّٰ کہ بعض اوقات تو شادی ہی اس نیت سے کی جاتی ہے اور بعض اوقات رجوع اس نیت سے کیا جاتا ہے۔یہ سب زمانہ جاہلیت کے مشرکوں کے افعال ہیں۔
فرمایا:’’ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ‘‘اور عورتوں کیلئے بھی شریعت کے مطابق مردوں پر ایسے ہی حق ہے جیسا عورتوں پر ہے۔
یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق پورے کرنا لازم ہے۔آیت کی مناسبت سے یہاں ہم شوہر اور بیوی کے چند حقوق بیان کرتے ہیں۔
شوہر پر بیوی کے حقوق:
شوہر پر بیوی کے چند حقوق یہ ہیں : (1) خرچہ دینا، (2) رہائش مہیا کرنا، (3) اچھے طریقے سے گزارہ کرنا، (4) نیک باتوں ، حیاء اور پردے کی تعلیم دیتے رہنا، (5) ان کی خلاف ورزی کرنے پر سختی سے منع کرنا، (6) جب تک شریعت منع نہ کرے ہر جائز بات میں اس کی دلجوئی کرنا، (7) اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرنا اگرچہ یہ عورت کا حق نہیں۔
بیوی پر شوہر کے حقوق :
بیوی پرشوہر کے چند حقوق یہ ہیں : (1)ازدواجی تعلقات میں مُطْلَقاً شوہر کی اطاعت کرنا، (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا، (3) اس کے مال کی حفاظت کرنا، (4) ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا، (5) ہر وقت جائز امور میں اس کی خوشی چاہنا، (6) اسے اپنا سردار جاننا، (7) شوہر کونام لے کر نہ پکارنا، (8) کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا، (9) خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا، (10) اس کی اجازت کے بغیر آٹھویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا، (11) وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے منانا۔ (1)
[1] … فتاوی رضویہ، ۲۴/۳۷۱، ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع