30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًاؕ-وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۪-وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۲۲۸)(1)
کا حق رکھتے ہیں اگروہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں اور عورتوں کیلئے بھی مردوں پر شریعت کے مطابق ایسے ہی حق ہے جیسا ( ان کا)عورتوں پر ہے اور مردوں کو ان پر فضیلت حاصل ہے اور اللہ غالب، حکمت والا ہے
اس آیت میں طلاق پانے والی عورتوں کی عدت کا بیان ہے ۔جن عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دی ہواگر وہ شوہر کے پاس نہ گئی تھیں اور ان سے خَلْوَت صحیحہ بھی نہ ہوئی تھی جب تو ان پر طلاق کی عدت ہی نہیں ہے جیسا کہ سورۂ احزاب کی آیت 49 میں ہے اور جن عورتوں کوکم سِنی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہوان کی عدت تین مہینے ہے اور جو حاملہ ہوں ان کی عدت بچہ جننا ہے جیسا کہ ان دونوں کی عدتوں کا بیان سورہ طلاق کی آیت 4 میں ہے اور جس کا شوہر فوت ہوجائے اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ جننا ہے اور اگر فوت شدہ کی بیوی حاملہ نہ ہو تو اس عورت کی عدت 4ماہ، 10دن ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت234میں ہے۔ مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی جو آزاد عورتیں ہیں یہاں ان کی عدت اور طلاق کا بیان ہے کہ ان کی عدت تین حیض ہے۔
مزید فرمایا:’’ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ ‘‘ اور انہیں حلال نہیں۔
جس چیز کو چھپانا طلاق والی عورت کو حلال نہیں وہ حمل اور حیض کا خون ہے۔(2)ان دونوں کوچھپانا اس لئے حرا م ہے کہ ان کے چھپانے سے رجوع کرنے اوراولاد کے بارے میں جو شوہر کا حق ہے ،وہ ضائع ہوگا۔
فرمایا:’’ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ‘‘ اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں۔
یہاں بطورِ خاص ایمان کا تذکرہ کرکے یہ سمجھایا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر عمل کیا جائے۔ لہٰذا ہرنیک عمل کو ایمان کا تقاضا کہہ سکتے ہیں۔
فرمایا:’’ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا ‘‘ اور ان کے شوہر اس مدت کے اندر انہیں پھیر لینے کا حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔
شوہروں کو رجعی طلاق میں عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے ۔آیت میں ’’اَرَادُوۡۤا“کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طلاق رجعی میں رجوع کیلئے عورت کی مرضی ضروری نہیں صرف مرد کا رجوع کافی ہے، ہاں
[1] … پ2،البقرہ:228
[2] … جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۲۸، ص۳۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع